’’عوامی پریشر یا حکومت جانے کا خوف‘‘سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار

پشاور(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے کوئی ہدایت نہیں دی، جبکہ اس سلسلے میں بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی تقریب یا میٹنگ منعقد ہوئی تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کا ماحول اور حالات سازگار بنانا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے کردار کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، جبکہ ان کے کراچی جانے کا مقصد عوام کو عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک کرنا ہے۔
لاہور کے دورے کے دوران متنازع زبان کے استعمال سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے اعتراف کیا کہ ان سے غلطی ہوئی، تاہم یہ عمل کا ردِعمل تھا۔ انہوں نے اس پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔



