28ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، کامریڈ ثمر جتوئی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ ہاری کمیٹی کے صدر کامریڈ ثمر جتوئی نے کہا ہے کہ سندھ کے خلاف سازشیں زور و شور سے جاری ہیں، لیکن سندھ کا حکمران طبقہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ بدین پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26 اور 27 ترامیم کے بعد اب 28ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں، جنہیں سندھ کا عوام ناکام بنا دے گا انہو نے کہا کہ سندھ کے ہائبرڈ حکمران صرف کرپشن کرنے اور اپنے گھر بھرنے میں مصروف ہیں۔ ہاری کارڈ کے اعلان کے باوجود کسانوں کو پیسے نہیں ملے، گندم کے بیج کی اعلان کردہ رقم بھی ادا نہیں کی گئی۔ فصلوں کے مناسب نرخ بھی نہیں دیے جا رہے، جس کی وجہ سے ٹماٹر، پیاز اور آلو اگانے والے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے انہو نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی زرعی پالیسی موجود نہیں جس کے ذریعے کسانوں کی تیار کردہ فصلوں کو ملکی اور عالمی منڈیوں تک رسائی مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ جو لوگ لسانی سیاست کے ذریعے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اس دھرتی کے وارث سندھ کے چپے چپے کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ کراچی سندھ کا شہر ہے، اور لسانی سیاست کرنے والے سندھ کے ردِعمل سے واقف نہیں ہیں انہو نے مزید کہا کہ سندھ میں ہاریوں کے ساتھ زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔ چوٹیاریوں کا واقعہ اور کیلاش کولہی کا قتل سنگین جرائم ہیں، جن کی ہم مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے



