لارکانہ:مبینہ پولیس مقابلہ میں علی گل کلہوڑو کے قتل پر آئی جی سندھ کا نوٹس،فائرنگ کرنیوالا اہلکار گرفتار،3رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ میں 6 روز قبل تھانہ حیدری کی حدود میں پولیس کی سر راہ فائرنگ سے علی گل کلہوڑو کے قتل واقعے کا آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی انکوائری کے تحریری احکامات جاری کر دئے ہیں. تحقیقات کے لئے 3 رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس کا چیئرمین ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک کو مقرر کر دیا گیا ہے جب کہ دو ارکان میں ایس ایس پی خیرپور سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک شامل ہیں، یہ کمیٹی واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے 3 روز کے اندر رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کریگی. ادھر مقتول علی گل کلہوڑو کے ورثاء کی مدعیت میں تاحال قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے جبکہ ورثاء نے مبینہ مقابلے کے پہلے سے درج مقدمے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اے ٹی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ عدالت میں جائیں گے.

واضح رہے کہ علی گل کلہوڑو کے قتل ہونے کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد علی گل پر فائرنگ کرنے والے تھانہ حیدری کے پولیس ہیڈ کانسٹیبل عرض محمد جتوئی کو گرفتار کرلیا گیا تھا جو تاحال حوالات میں بند ہے. اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس کے اوپر خاصی تنقید کی جا رہی ہے جبکہ مقتول کی بیوہ، بہن اور بچوں کے میڈیا میں چلنے والے بیانات کو بھرپور انداز سے شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ روتے ہوئے بتا رہی ہیں کہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے، علی گل بے گناہ تھا جس پر غلط الزامات لگاکر کر قتل کیا گیا جبکہ وہ 27 دسمبر کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی سے واپس آرہا تھا اور بعد میں اس کو بچوں اور تمام اہل خانہ کے لئے موسم سرما کے سلسلے میں گرم کپڑوں کی خریداری کرنی تھی جس کے لئے وہ گھر سے ایک لاکھ روپے بھی لیکر گئے تھے.

واضح رہے کہ مقتول علی گل کلہوڑو ضلع قمبرشہدادکوٹ کے گاؤں مہی مکول کا رہائشی تھا جہاں پر ان کے ورثاء انصاف کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں.

مزید خبریں

Back to top button