محکمہ آبپاشی میں اربوں روپے کی کرپشن، نہروں کی صفائی کے نام پر مٹی چوری کا انکشاف

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ  پی کے )محکمہ آبپاشی میں اربوں روپے کی کرپشن کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔ محکمے کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق ہر سال نہروں کی صفائی اور مرمت کرائی جاتی ہے، جس کے لیے اربوں روپے کا بجٹ رکھا جاتا ہے۔ یہ کام دسمبر اور جنوری میں کیا جاتا ہے، جس کے لیے ان دونوں مہینوں میں زرعی اور پینے کے پانی کی بندش کر کے نہروں میں پانی چھوڑنا بند کر دیا جاتا ہے اسی دوران محکمہ آبپاشی کے افسران داروغاؤں کے ذریعے غیر قانونی طور پر مشینری استعمال کر کے نہروں سے مٹی نکال کر فروخت کرتے ہیں، جس سے کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ بعد ازاں نہروں کی صفائی اور مرمت کے جعلی بل بنا کر سرکاری خزانے سے بجٹ کی رقم نکلوا کر ہڑپ کر لی جاتی ہے گزشتہ ماہ سے نہروں میں پانی کی بندش کے دوران ماتلی شہر سے گزرنے والی پھلیلی کینال اور تلہار و بدین شہروں سے گزرنے والی قاضیا واہ اور میر واہ میں پانی کی کمی اور بندش کے باعث پھلیلی کے کناروں اور قاضیا واہ و میر واہ سے مٹی چوری کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مختلف مقامات پر کئی پارٹیاں ٹریکٹر ٹرالیوں اور کانٹے (ایکسکیویٹر) جیسی بھاری مشینری کے ذریعے بڑے پیمانے پر مٹی نکال کر مجموعی طور پر کروڑوں روپے میں فروخت کر رہی ہیں اس عمل کے نتیجے میں پھلیلی اور دیگر نہروں کے بند اور کنارے کمزور ہو رہے ہیں، بلکہ قاضیا واہ اور میر واہ کے پیندے بھی تباہ ہو رہے ہیں اور دونوں نہروں کی ڈیزائننگ ختم ہو چکی ہے۔ جگہ جگہ بڑے گڑھے بن گئے ہیں، جس کی وجہ سے آخری حصوں تک پانی پہنچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ جب بھی پانی چھوڑا جائے گا تو پھلیلی، قاضیا واہ اور میر واہ کے بند ٹوٹنے اور شگاف پڑنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی کے انجینئروں اور داروغاؤں نے ٹریکٹر ٹرالی والوں کو فی ٹرالی روزانہ ایک ہزار روپے کے عوض پھلیلی اور دیگر نہروں سے مٹی اٹھانے کی مشروط اجازت دے رکھی ہے، جبکہ یہی مٹی عام شہریوں اور سڑکوں و عمارتوں کی تعمیر کرنے والے ٹھیکیداروں کو تین ہزار سے پینتیس سو روپے فی ٹرالی فروخت کی جا رہی ہے محکمے کے ذرائع کے مطابق روزانہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے پھلیلی، قاضیا واہ اور میر واہ سب ڈویژن کے انجینئروں اور داروغاؤں کو مٹی چوری کی اجازت کے بدلے بھتہ کے طور پر داروغاؤں کے ذریعے وصول کیے جا رہے ہیں اسی وجہ سے دن دہاڑے ماتلی میں پھلیلی کے کناروں سے اور بدین و تلہار سے گزرنے والی قاضیا واہ اور میر واہ سے مٹی کھود کر فروخت کی جا رہی ہے سلسلہ ہر سال نہروں میں پانی کی کمی اور بندش کے موقع پر دہرایا جاتا ہے اور یہ محکمہ آبپاشی کے اہلکاروں کا مستقل دھندا بن چکا ہے۔ یہ مٹی پلاٹوں کی بھرائی کے لیے بھی فروخت کی جا رہی ہے واضح رہے کہ پھلیلی ایک قدرتی کینال ہے، جس کی کبھی کانٹے کے ذریعے کھدائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک دو سال قبل وسپ پروگرام کے تحت پھلیلی کے کناروں کو تین فٹ تک بلند کیا گیا تھا، جس کے لیے مٹی پھلیلی کے پیندے سے لینے کے بجائے باہر سے لائی گئی تھی۔ اب انہی بلند کیے گئے کناروں کی مٹی بدعنوانی اور کرپشن کے ذریعے چرا کر پھلیلی کے کناروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button