تھرپارکر میں گریڈ 1 سے 4 کے آرڈرز پرانی ڈی آر سی کے تحت جاری کرنے کا عدالتی حکم

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) سندھ ہائی کورٹ میرپورخاص بینچ میں تھرپارکر کے گریڈ 1 سے 4 کے آرڈرز پرانی ڈی آر سی کے تحت جاری کرنے سے متعلق امیدواروں کی جانب سے دائر تین مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی کی عدم پیشی پر انہیں طلب کرلیا۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر سے گریڈ 1 سے 4 کی بھرتیوں کی فہرست طلب کی، جس پر ڈی سی نے عدالت کو بتایا کہ وائرل ہونے والی فہرستیں جعلی ہیں اور سرکاری طور پر ایسی کوئی فہرست موجود نہیں۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فہرستیں جعلی ہیں تو پھر ان پر سیکشن افسران کے دستخط کیوں موجود ہیں؟
جواب میں ڈپٹی کمشنر نے عدالت سے 2 دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ فہرست فراہم کردی جائے گی۔
تاہم عدالت نے مہلت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پرانی ڈی آر سی کے تحت تیار کردہ فہرست کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
امیدواروں کی جانب سے کیس کی پیروی معروف وکیل غلام اللہ چانگ نے کی۔
یاد رہے کہ پرانی ڈی آر سی کے تحت آرڈرز روکنے کیلئے دو سے تین ڈی ایچ اوز کے تبادلے کیے گئے تھے اور انہیں ڈی سی آفس بلا کر نئی فہرستوں پر دستخط کرنے کیلئے دباؤ ڈالے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے باعث آرڈرز جاری کرنے میں تاخیر ہوئی اور معاملہ بالآخر عدالت تک پہنچ گیا۔
بااعتماد ذرائع کے مطابق آرڈرز کو مزید روکنے کیلئے نئی حکمت عملی تیار کی جاسکتی ہے، تاہم پرانی ڈی آر سی پر عملدرآمد کسی صورت نہیں کیا جائے گا۔



