کفایت شعاری اقدامات: کوئی محکمہ اضافی فنڈز کیلئے درخواست نہیں دے گا،شرجیل میمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ  حکومت سندھ کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ بجٹ سے باہر رقم کے حصول کے لئے درخواست نہ بھیجے، اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو جنگی صورتحال کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اور صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔

سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر داخلہ، قانون و پارلیامانی امور ضیا الحسن لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کچے کے علاقوں کے جامع سروے کی منظوری دی گئی ہے اور اس کے لیے رقم بھی مختص کی گئی ہے، جس سے سکیورٹی مسائل کے حل میں آسانی ہوگی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کچے میں آپریشنز بھی کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ کابینہ نے محکمہ جنگلات کو جامع پالیسیاں بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سینٹ پیٹرک اسکول کراچی میں جدید کثیر المقاصد اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں میں سابقہ برسوں کے طلبہ کی فیسوں کی واپسی کے لیے 3.4 ارب روپے کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ کابینہ نے ایس ڈی جیز کے تحت 98 اسکیموں کی منظوری دیتے ہوئے 4.33 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ عورت فاؤنڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے۔ خیرپور میں درازہ شریف کے مقام پر حضرت سچل سرمستؒ کے نام سے لائبریری کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جس کی لاگت 5 کروڑ 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بھٹ شاہ میں حضرت شاہ لطیف بھٹائیؒ کے مزار پر ترقیاتی کاموں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ کابینہ نے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہاری کارڈ کے ذریعے کی جائے گی، اور اس سلسلے میں کاشتکاروں کا مکمل ڈیٹا بھی موجود ہے۔

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی پروگرام کے آغاز کے لیے ڈیٹا اکٹھا کروایا تھا، اسی طرز پر کاشتکاروں کا ڈیٹا بھی جمع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین میں کینسر سمیت دیگر امراض کی بروقت تشخیص کے لیے ایک جدید ٹیچنگ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے تاکہ طبی عملے کو تربیت فراہم کی جا سکے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ پولیس نے کچے کے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس حوالے سے میڈیا کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں آپریشنز کے دوران 393 افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ حکومت کی کوشش تھی کہ پہلے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالے جائیں، بصورت دیگر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جرم کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، جبکہ مختلف برادریوں کے سردار اور مقامی بااثر افراد بھی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اوباوڑو سے ٹھٹہ تک کچے کے علاقوں کا سروے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ ان علاقوں کے افراد، خصوصاً خواتین، زمینوں کی الاٹمنٹ سے مستفید ہوں۔ دادو کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ دیا ہے اور یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ سزا ہو تو اچھا اور بریت ہو تو برا، کیونکہ دونوں فریقین کو منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی بات تو کرتی ہے، مگر بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے، جبکہ پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ تمام صوبے مل کر اٹھا رہے ہیں تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے، کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ملٹری گریڈ اسلحے کی سپلائی کے معاملے پر وفاقی اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے، اور پنجاب میں موجود اسلحے کے ایک بڑے ذخیرے کو سندھ پولیس نے تباہ کیا ہے، جبکہ گزشتہ چند ماہ میں اس حوالے سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ دادو سیشن کورٹ کے واقعے پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، اور حالیہ فیصلہ انتہائی اہم تھا۔ حکومت نے کوشش کی کہ کسی فریق کو نقصان نہ پہنچے، جبکہ فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور حکومت کا کام اپنی رٹ کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی فریق کا ساتھ دینا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ تعلیمی ادارے، بشمول اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، تاہم ہفتہ کے روز اسکول بند رہیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button