کراچی،آئی آئی چندریگر روڈ پر ہیریٹیج عمارت کو خریدنے کی منظوری

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اجلاس کمیٹی کے کنونئیر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ضیاء الحسن لنجار، متعلقہ سیکریٹریز و دیگر بھی موجود تھے. اجلاس میں آئی آئی چندریگر روڈ پر ہیریٹیج عمارت کو خریدنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبے کی تین جامعات جن میں آئی بی اے، این ای ڈی اور مہران یونیورسٹی کے 35 ہزار طلبہ و طالبات کو پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی غرض سے 900 ملین کی رقم کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ رورل ڈپارٹمنٹ کے تحت ڈسٹرکٹ عمر کوٹ میں 100 سولر پمپس کی تنصیب کے لئے بلاک ایلوکیشن کی 25 فیصد رقم 100 ملین کی فراہمی کی منظوری دی گئ اور ڈسٹرکٹ ٹنڈو الہیار میں واٹر سپلائی اسکیم الٹرا فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ اور ڈرینج سسٹم کی تنصیب کے لئے منظوری دی گئی۔ اجلاس میں یونیورسٹی آف سندھ کے 6 بوائز، 5 گرلز اور 1 اساتذہ ہاسٹل میں سیوریج ، الیکٹرانک و دیگر کاموں کے آغاز کے لئے فوری طور پر نان اے ڈی پی اسکیم کے تحت 100 ملین روپے ہے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے تحت تین سال تک گرانٹ میں سے کابینہ کی سب کمیٹی برائے فنانس نے اس سال 2025-26 کے لئے 339 ملین روپے کی منظوری دی۔ اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 52 اسکیموں کی منظوری کی درخواست پر انہیں منظوری دی گئی جس کے فنڈز پہلے ہی جاری کئے جاچکیں ہیں ۔ اجلاس میں کراچی میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لئے ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے سنگلز کی درستگی، روڈ مارکنگ و دیگر کے لئے 100 ملین کی رقم فوری جاری کرنے کی منظوری دی گئی البتہ اجلاس میں سیکرٹری سروسز کو ہدایات دی گئی کہ اس حوالے سے کمشنر کراچی کی جانب سے ملنے والی سمری کو ازسر نو طریقے سے پیش کیا جائے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ سندھ نے ہدایات دی کہ ٹریفک مینجمنٹ و انجینئرنگ و دیگر کو ایک چھتری تلے کیا جائے تاکہ اس کام کو بہتر انداز سے کیا جاسکے۔



