وزیر تعلیم سندھ سے SPLA وفد کی ملاقات، کالج اساتذہ کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)صوبائی وزیر تعلیم سندھ، سید سردار علی شاہ سے سندھ لیکچررز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن (SPLA) کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی، جس میں کالج اساتذہ کو درپیش مسائل اور چارٹر آف ڈیمانڈز میں شامل نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کراچی آفس میں ہونے والے اجلاس میں سیکریٹری کالج ایجوکیشن فرخ شہزاد قریشی، ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ زاہد حسین راجپر، ڈاکٹر محمد قاسم راجپر سمیت دیگر شریک ہوئے، جبکہ سپلا کی نمائندگی سپلا کی نمائندگی مرکزی صدر پروفیسر منور عباس ، مرکزی سیکریٹری جنرل پروفیسر غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی سینئر نائب صدر محمد عدیل خواجہ اور شبانہ افضل مرکزی لیڈی وائس پریزیڈنٹ نے کی۔
اجلاس کے دوران سپلا کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کو صوبائی وزیر نے تسلی اور توجہ کے ساتھ سنا۔ اس موقع پر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے کالجز کی بہتری میں اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے اور حکومت کالج اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کالج اساتذہ سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنا کر اساتذہ کو تعلیمی نظام کی بہتری کے عمل میں فعال طور پر شامل کیا جائے گا۔
ملاقات میں اساتذہ کی ترقیوں سے متعلق امور، خصوصاً گریڈ 17 سے اوپر پروموشنز کے طریقہ کار کو مزید آسان اور مؤثر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے اس حوالے سے بروقت ترقیوں کے نظام کو فعال بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ اساتذہ کی ترقی کے فارمولے سے متعلق اپنی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر قائم ہیں اور اس ضمن میں اساتذہ کی مشاورت سے پیش رفت کی جائے گی۔
کالجز میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے وزیر تعلیم نے بتایا کہ فرنیچر اور لیبارٹری آلات کی فراہمی کے لیے اسکیمیں پر عمل درآمد جاری ہے، جن کی تفصیلات بھی جلد سپلا وفد کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کالجز میں کمپیوٹر تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، کمپیوٹر لیبز کو فعال اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جبکہ نئی مشینری کی فراہمی اور موجودہ لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں بی ایس چار سالہ پروگرام کے لیے درکار کتب کی خریداری کے عمل کو کالج سطح پر موجود بجٹ سے کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اس ضمن تمام کو مراسلہ جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
تاکہ کالج سطح پر سہولیات کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے کالجز کا تاثر صرف امتحانی مراکز کا رہ گیا ہے جس کو درست کرنے کی ضرورت سے جہاں طلباء صرف سرٹیفکیٹ کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے کے لیے آئیں۔
کالج عمارتوں پر قبضوں کے مسئلے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، جس پر وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ سرکاری املاک کے ناجائز استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اساتذہ کو اس حوالے سے نشاندہی اور تعاون کی ہدایت بھی کی۔
طلبہ و اساتذہ کی حاضری کے حوالے سے 75 فیصد طلبہ کی لازمی حاضری پر زور دیا گیا۔ وزیر تعلیم نے SECCAP سے متعلق مسائل اور اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سپلا کی تجاوزیر اور SECCAP میں سامنے آنے والے دیگر مسائل کو حل کر کے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت طلبہ کی حاضری کو ڈجیٹلائیز کیا جائے گا تا کہ کالج میں تعلیمی سرگرمیاں مزید فروغ حاصل کر سکیں۔
سپلا کے صدر نے فائیو ٹئیر فارمولے کے آغاز کو سراہا، جس پر وزیر تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ اس پر مناسب وقت پر مزید پیش رفت کی جائے گی، جبکہ پروموشن کے لیے بورڈ I اور بورڈ II کے انعقاد کی ضرورت پر وزیراعلیٰ سندھ کو سفارش ارسال کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی۔
ملاقات کے دوران درسی کتب کی تیاری کے حوالے سے صوبائی وزیر نے آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ کتب کی اشاعت سے قبل اساتذہ کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کی کمپیوٹر سائنس کی کتاب کو اپ گریڈ کرنے کا بھی یقین دلایا اور اس ضمن میں تجاویز کا خیر مقدم کیا، اجلاس کے اختتام پر SPLA وفد نے وزیر تعلیم سندھ کا شکریہ ادا کیا اور باہمی رابطہ کاری کے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ڈاکٹر قاسم راجپر کو سپلا اور محکمہ کالج ایجوکیشن کے درمیان رابطے کے لئے فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔



