بدین: تاجر کی دکان میں آگ لگنے پر فائر بریگیڈ کے بروقت نہ پہنچنے پر شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی دھرنا

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے) بدین کے ساحلی علاقے کے سیرانی شہر میں بدامنی عروج پر پہنچ گئی ہے، چوری اور ڈکیتی روز کا معمول بن چکی ہیں گزشتہ رات شہر کے ایک تاجر کی دکان میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد اطلاع دینے کے باوجود فائر بریگیڈ کے بروقت نہ پہنچنے پر شہریوں اور سماجی تنظیموں نے شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔ اس دوران سینکڑوں افراد نے شہر کے مرکزی مقام پر پانچ گھنٹے تک دھرنا دے کر بدین کڈھن روڈ بند رکھا بعد ازاں ضلع کاؤنسل بدین کے وائس چیئرمین فدا حسین میندھرو اور اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش کمار نے تاجروں سے مذاکرات کیے اور ان کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرانے پر دھرنا ختم کرا دیا گیا تفصیلات کے مطابق سیرانی شہر میں بدامنی بڑھ گئی ہے اور چوری و ڈکیتی روز کا معمول بن چکی ہے۔ گزشتہ رات شہر کے ایک مرکزی تاجر کی دکان میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی۔ ضلع انتظامیہ بدین کو اطلاع دینے کے باوجود فائر بریگیڈ کی گاڑی بروقت نہ پہنچ سکی، جس کے باعث تاجر کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا آج سیرانی کے تاجروں، شہریوں اور سماجی حلقوں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اور سینکڑوں افراد نے میرواہ پل کے مقام پر پانچ گھنٹے تک دھرنا دیا، جبکہ بدین کڈھن بگھڑا میمن روڈ کو بند رکھا گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اس موقع پر تاجر رہنماؤں حاجن شاہ، صالح رند، صدام منڌرو، مرتضیٰ شاہ، حاجی ستار منڌرو و دیگر نے کہا کہ سیرانی میں چوری کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں اور پولیس نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات حاجن شاہ کی دکان کو آگ لگی، ہم نے بار بار ضلع انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنر اور فائر بریگیڈ کو فون کیے مگر کسی نے توجہ نہ دی۔ بتایا گیا کہ گاڑی کے ٹائر پنکچر ہیں اور تیل نہیں ہے، جس کے باعث فائر بریگیڈ چار گھنٹے بعد پہنچی، تب تک سب کچھ جل چکا تھا انہوں نے مزید کہا کہ سیرانی میں موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں۔ گزشتہ رات بھی نامعلوم چور دکانوں کے تالے توڑ کر ہزاروں روپے مالیت کا سامان لے گئے آخر میں ڈسٹرکٹ کونسل بدین کے وائس چیئرمین فدا حسین منڌرو، اسسٹنٹ کمشنر راجیش کمار، چیئرمین سیرانی اصغر علی چانگ اور ایس ایچ او بدین نے دھرنا دینے والے تاجروں سے مذاکرات کیے اور دو دن کی مہلت طلب کر کے دھرنا ختم کرایا



