امریکہ، ایران بحری ناکہ بندیاں: پاکستان سمیت پوری دنیا کو تہرے جھٹکے!

تحریر:معظم فخر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حالیہ دھمکی نے عالمی امن کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کی تیل کی برآمدات کو "صفر” کرنے کے لیے اپنی بحریہ کو ایرانی حدود کے قریب تعینات کرنے اور ہر تجارتی جہاز کو روکنے کا حکم دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کی اس جارحانہ ناکہ بندی کا مقصد تہران کو معاشی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے، لیکن ایران نے اس کا جواب انتہائی غیر متوقع اور ہولناک انداز میں دیا ہے۔ تہران نے نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ بحیرہ احمر کی کلید یعنی "باب المندب” کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تجارت کے دو بڑے گیٹ ویز پر تالے لگ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے ان "تہرے جھٹکوں” کی بنیاد رکھ دی ہے جس کا انتباہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں، قالیباف نے اپنے موقف کے اظہار کے لیے طنزیہ انداز اختیار کیا، اور براہِ راست واشنگٹن کی تصاعدی پالیسیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس طرف اشارہ کہ کوئی بھی بحری محاصرہ جو ایرانی بندرگاہوں سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنائے، وہ عالمی توانائی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دے گا اور تیل کی قیمتوں کو انتہائی بلند سطحوں تک پہنچا دے گا۔ قالیباف نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے لکھا: "موجودہ ایندھن کی قیمتوں سے لطف اٹھاؤ”، اور اس جانب اشارہ کیا کہ امریکی صارف جلد ہی 4 سے 5 ڈالر فی گیلن کی قیمتوں کی طرف واپس آنے کو یاد کرے گا، اگر بحران مزید بگڑ گیا۔ یہ خطاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کی طرف سے واشنگٹن کی قیادت میں کسی بھی بیرونی تصاعد کی داخلی لاگت اور ملکی اثرات کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ قالیباف نے صرف سیاسی بیانات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک گراف بھی منسلک کیا جو وائٹ ہاؤس کے قریب ایندھن کی قیمتوں کو ظاہر کرتا ہے، اس کے ساتھ ایک علامتی مساوات (symbolic equation) بھی دی جس نے عالمی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا گیا تو وہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے "باب المندب” کی اہم گزرگاہ کو بھی بلاک کر دے گا۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے گزر کر جہاز نہر سویز اور پھر یورپ پہنچتے ہیں۔ ایران کی یہ دھمکی دراصل ایک عالمی بساط بچھانے کے مترادف ہے، جہاں وہ امریکہ کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر ایران کا تیل نہیں بکے گا تو خلیج کا ایک قطرہ بھی عالمی منڈی تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ اسٹریٹجک لحاظ سے یہ صورتحال خطے کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے جو توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی خطے پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو خطے میں سیکیورٹی کا توازن بگڑ جائے گا اور پاکستان کو اپنی مغربی سرحدوں اور بحری حدود کی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملی اپنانی پڑے گی۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج مہنگے تیل کی درآمد اور خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا مستقبل ہوگا جن کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس تناظر میں ماہرین تین بڑے خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں:
توانائی کا بحران
پہلا بڑا جھٹکا توانائی کے شعبے میں لگے گا جہاں تیل کی قلت قیمتوں کو اس سطح پر لے جائے گی کہ امریکہ اور یورپ میں ٹرانسپورٹ اور صنعت کا پہیہ جام ہو سکتا ہے۔ جب سپلائی میں اچانک کمی آئے گی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تمام ریکارڈ توڑ دیں گی، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑے گا اور قالیباف کی وہ پیشگوئی سچ ثابت ہوگی کہ لوگ چند ڈالرز کے لیے ترستے رہ جائیں گے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہے جو پوری معیشت کو مفلوج کر سکتا ہے۔
سپلائی چین کی تباہی
دوسرا جھٹکا عالمی سپلائی چین کے مکمل خاتمے کی صورت میں لگے گا، کیونکہ بحری راستوں کی بندش سے اشیاء خوردونوش، الیکٹرانکس اور خام مال کی عالمی ترسیل رک جائے گی۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے راستوں کا بند ہونا عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کو مفلوج کر دے گا، جس سے بین الاقوامی سطح پر مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جو دہائیوں تک ختم نہیں ہوگا۔ پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ غذائی اور صنعتی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
مالیاتی مارکیٹوں کا کریش
تیسرا اور سب سے مہلک جھٹکا مالیاتی مارکیٹوں کا ہوگا، جہاں غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے سائے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہونے سے عالمی اسٹاک مارکیٹس اور کرنسیوں کی قدر ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ یہ تہرے جھٹکے دراصل وہ "کمپاؤنڈ شاکس” ہیں جو ٹرمپ کی ناکہ بندی کی پالیسی کے بطن سے جنم لیں گے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی رابطوں کی ناکامی کے بعد اب دنیا اس ہولناک معاشی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط قدم پوری عالمی معیشت کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔ خطے کے تمام ممالک کو اب ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا ورنہ اس آگ کی لپیٹ سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ پائے گا۔



