جس دن پتہ چلاکہ این آئی آرسی کی چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی تو استعفیٰ دیدیا، شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)قومی صنعتی تعلقات کمیشن ( این آئی آر سی) کے مستعفی چیئرمین  جسٹس  ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہےکہ  جس  دن  یہ  باور کرایا  گیا کہ   این آئی آر سی کی  چیئرمین  شپ   بطور   ازالہ  (compensation)   دی گئی ہے تو میں نے اسی لمحے استعفیٰ دے دیا۔

این آئی آر سی کے مستعفی چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد کیےگئے الوداعی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ وفاقی  وزیرقانون  نے نومبر 2024 میں رابطہ کرکے چیئرمین  این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کو کہا، 4 دسمبر 2024 کو چارج سنبھالا  تو  اس وقت ادارے کو  بند کرنےکا دباؤ  بڑھ رہا تھا۔

 شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ  اس وقت این آئی آر سی میں زیر التوا کیسز کی تعداد 5380 تھی، 31 دسمبر 2025 تک 5261 کیسز نمٹائے جب کہ اس ایک سال کے دوران 5522 نئے کیسز  بھی دائر ہوئے جس کی وجہ لوگوں کا اس ادارے پر اعتماد بڑھنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کاخیال ہےکہ شوکت صدیقی نے اچانک استعفیٰ کیوں دے دیا؟ میں اپنے دل سے فیصلے کرتا ہوں، دماغ سے نہیں، مجھے تقریر ہمیشہ بڑی مہنگی پڑتی ہے۔

انہوں نےکہا کہ  وہ عہدوں کے   پیچھے بھاگنے والے نہیں، این آئی آر سی کی چیئرمین شپ چیلنج سمجھ کر قبول کی تھی لیکن جس دن یہ باور کرایا گیا کہ  چیئرمین شپ بطور   ازالہ (compensation)  دی گئی تو اسی لمحے استعفی دے دیا کیونکہ مجھے کوئی فیور نہیں چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج کا کہنا تھا کہ جس نے بھی ان کے کریئر کو برباد کیا، بہتان تراشی کی اور جھوٹے الزامات لگائے ان کا معاملہ  اللہ پر چھوڑتے ہیں کیونکہ اللہ سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔

انہوں نے ہال میں موجود صحافی و یو ٹیوبر مطیع اللہ جان کو مخاطب کر کےکہا کہ وہ بعض باتوں پر  یکطرفہ کلاس لیتے ہیں، اب وقت آگیا ہےکہ  وہ اور میں آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں گے اور میں بتاؤں گا کہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ کون ہے؟

مزید خبریں

Back to top button