وفاقی وزرا سندھ حکومت کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں،قیادت جواب طلب کرے،شرجیل میمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ہمارے جوان دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے برسرِ پیکار ہیں اور ملک کے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، کل سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم اور عوام دوست فیصلے کیے گئے، سندھ الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ صوبہ توانائی کے شعبے میں خود مختار ہو سکے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہے اور صوبے کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، زرعی شعبے سے وابستہ خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ بھر کی کسان خواتین کا باقاعدہ ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں مؤثر انداز میں سہولیات فراہم کی جا سکیں، کسان خواتین کے لیے نئے منصوبے متعارف کرانا حکومت کا مقصد ہے۔
انہوں ںے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کاروباری طبقے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے، تاجروں کو دس دن کے اندر آن لائن تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کاروباری عمل میں آسانی پیدا ہو۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تھرپارکر تک ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے تاکہ سفری اور تجارتی روابط کو بہتر بنایا جا سکے، سندھ حکومت نے تھر کول منصوبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر کراچی کو دانستہ طور پر بلاوجہ مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تنقید کرنا آسان اور زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں، کراچی کے اپنے مسائل ہیں تاہم یہ شہر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کراچی روزانہ پورے ملک سے آنے والوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے، کراچی میں روزانہ ہزاروں افراد ملک بھر سے داخل ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع تلاش کرتے ہیں، صحت کی بہتر سہولیات کے حصول کے لیے بھی ملک بھر سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں، میڈیا ہاؤسز کے ہیڈ آفس یہاں ہونے کی وجہ سے شہر زیادہ زیرِ بحث رہتا ہے، بڑے چیلنجز اور دباؤ کے باوجود کراچی ملکی معیشت کا مرکز اور ترقی کا محور بنا ہوا ہے، ان تمام حقائق کے باوجود حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے مگر ان سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج توانائی کا بحران ہے، سستی ترین بجلی سندھ کے کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے، حکومت نے کوئلہ منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کر کے قومی گرڈ کو بجلی فراہم کی ہے، کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان کو فراہم کی جا رہی ہے، اسے نیشنل گرڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوئلہ منصوبوں پر آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انرجی سیکٹر میں کوئلہ ایک اہم اور مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں اس کا باقاعدہ افتتاح متوقع ہے، انفرااسٹرکچر سیس کی مد میں جمع ہونے والی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو رہی ہے، اس مد میں حاصل ہونے والے فنڈز سندھ حکومت کو موصول نہیں ہو رہے، حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے مکیش چاؤلہ کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
انہوں ںے کہا کہ کراچی کے اسپتالوں میں تقریباً پچاس فیصد مریض بیرونِ شہر سے آتے ہیں، ان پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو سندھ حکومت ادا کر رہی ہے، گمبٹ میں جگر کی پیوندکاری کی سہولت دستیاب ہے جبکہ ماضی میں لوگ علاج کے لیے بھارت جایا کرتے تھے، سندھ پولیس نے 28 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا ہے اور دو ماہ کے دوران 187 ڈاکوؤں نے سرینڈر کیا، پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور بھرپور کارروائیاں کی ہیں،
ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ زیرِ گردش صدر آصف علی زرداری کی مبینہ میٹنگ سے متعلق خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض سنسنی پھیلانے کی کوشش ہے، جس میٹنگ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس میں ایسا کچھ نہیں تھا، زرداری صاحب ہمارے بزرگ ہیں اور ہمیں ڈانٹ بھی سکتے ہیں، صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری محترمہ فریال تالپور باقاعدگی سے بریفنگ لیتے رہتے ہیں اور ہم سب اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں،کراچی کے چیلنجز کا صدر اور چیئرمین صاحب کو بخوبی علم ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا اور گورنر ہاؤس سے سندھ حکومت کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں، سیاسی یتیم جتنے اب جمع ہوگئے ہیں ان کا کام ہی اب یہ ہے،وفاقی وزرا سندھ حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، پیپلزپارٹی کی قیادت سے کہتا ہوں وہ وفاقی حکومت سے اس پر جواب طلب کرے، وفاقی کی حکومت ہر وقت پیپلزپارٹی سے مدد مانگتی ہے، ہم وفاقی حکومت کو سپورٹ کررہے ہیں، اتحادی نہیں ہیں



