سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان،کئی افسروں کو معطل کردیا گیا

سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے دن سے حکومت کی پوری توجہ ریسکیو آپریشن اور متاثرین کی بحالی پر رہی ہے،ریسکیو اور ری ہیبیلیٹیشن سے متعلق تفصیلات ہم پہلے ہی میڈیا کو کئی بار بتا چکے ہیں، گل پلازا سانحے کے بعد سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا اور ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی اور میں بھی بطور رکن شامل تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ  چیف منسٹر نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت دی جس میں کمشنر کراچی اور ایڈیشنل لوکل گورنمنٹ کراچی شامل تھے،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور ہم یہ رپورٹ میڈیا کے ساتھ شیئر کریں گے

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ہماری ابتدائی فائنڈنگز میں ہر متعلقہ افسر اور ہر محکمہ کی ذمہ داری واضح طور پر بتائی گئی ہے،ہر فرد کو اس کے دائرہ اختیار اور کردار کے مطابق ذمہ دار سمجھا جائے گا،مزید جوڈیشل انکوائری کے دوران اگر کسی کی غفلت سامنے آتی ہے تو اعلیٰ افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت ہر ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور کسی کی پوزیشن یا اثر و رسوخ اس عمل میں رکاوٹ نہیں بنے گا،چیف سیکریٹری کے پاس اجلاس ہوا جو چار سے پانچ گھنٹے جاری رہا اور اہم فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی رپورٹ کی روشنی میں کیے گئے

سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ واقعے کے وقت عمارت میں تقریباً دو سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے،عمارت میں بارہ سو سے زائد دکانیں تھیں اور ملازمین و وزیٹرز بھی موجود تھے،آگ لگنے کے بعد متعدد افراد خود نکلے اور کئی کو سرکاری اداروں نے ریسکیو کیا،تقریباً اسی افراد اس حادثے سے متاثر ہوئے اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،ہنگامی صورتحال کے تحت ستائیس جنوری دو ہزار چھبیس کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا اور انتیس جنوری دو ہزار چھبیس کو کابینہ اجلاس کے فیصلوں کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا،تفتیشی کمیٹی نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے کر ابتدائی حقائق اور شواہد کا تجزیہ کیا،کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ان شواہد کی بنیاد پر اہم مشاہدات اور نتائج اخذ کیے،مشاہدہ کیا گیا کہ محکمہ سیول ڈیفنس نے دو ہزار تئیس سے جولائی تک مختلف عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس کیے تھے،تاہم اس نوعیت کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اصلاحی اقدامات اور قانونی نفاذی کارروائی نہیں کی گئی،ڈائریکٹر سیول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرولر سیول ڈیفنس ضلع جنوبی کراچی نے معاملے کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا

پلازا کی انتظامیہ کو دو بار نوٹسز جاری کیے گئے اور سیفٹی آڈٹس کی خامیوں سے آگاہ کیا گیا،شرجیل انعام میمن

انتظامیہ کو بتایا گیا تھا کہ مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہیں جس سے ریسکیو میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں،نوٹسز کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں کروایا گیا،اس غفلت پر ڈائریکٹر سیول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرولر سیول ڈیفنس ضلع جنوبی کراچی کو فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے،ان افسران کے خلاف متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی شروع کی جا رہی ہے،اگر کسی اعلیٰ اتھارٹی کی غفلت یا شمولیت ثابت ہوئی تو قانون و قواعد کے مطابق اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button