صدر آصف زرداری اوربلاول بھٹو کی ہدایات پر حکومت سندھ نے عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا،شرجیل میمن

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ جنگی صورتحال میں وفاقی حکومت کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام پر بوجھ پڑا۔ اس اہم معاملے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں تمام وزراء اعلیٰ نے شرکت کی اور مشترکہ فیصلے عمل میں آئے۔ سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی ہدایات پر حکومت سندھ نے عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا اور عوام کے ریلیف کے لیے 35 ارب کا پیکیج دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریلیف پیکیج میں سب سے پہلے غریب کسانوں کو ترجیح دی گئی، ہمارے پاس بے نظیر ہاری کارڈ کے تحت ڈیٹا تھا، 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے تمام کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے کے حساب سے کسانوں کو ریلیف دیا گیا اور سندھ بینک کے ذریعے کسانوں کو فنڈز کی منتقلی شروع بھی ہو گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کے ہمراہ منگل کے روز ڈی جی نارکوٹکس کنٹرول ونگ سندھ دفتر میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں 67 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں جنھیں ماہوار دو ہزار روپے ملیں گے تاہم جس کی گاڑی اس کے اپنے نام پر نہیں اس کے لئے حکومت سندھ نے ٹرانسفر فیس معاف کر رکھی ہے وہ پہلے خود کو رجسٹرڈ کروائے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ دوسری سبسڈی حکومت سندھ نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کو دی گئی ہے، سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری و نجی گاڑیوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو سبسڈی دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے کہا کہ منشیات سے نوجوانوں کو دور رکھنا حکومت سندھ کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں نیول انٹیلیجنس نے محکمہ ایکسائز کو منشیات کی اطلاع دی اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنس اور محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول ونگ سندھ نے مشترکہ کارروائی کرکے 500 کلو گرام سے زیادہ آئس گرام تحویل میں لی جس پر محکمہ ایکسائز اور صوبائی وزیر ایکسائز مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ نے مزید بتایا کہ محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول ونگ، نیول انٹیلیجنس اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی مشترکہ کاروائی سے بحیرہ عرب سے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے۔ جس کے دوران اربوں روپے زائد مالیت کی 500 کلوگرام کرسٹل آئس اور 3000 بوتلیں غیرملکی وہسکی برآمد، کی گئی۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر محکمہ نارکوٹکس کورنگی ڈسٹرکٹ کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ منشیات سمندر کے راستے کورنگی منتقل کی گئی ہے لہذا محکمہ نارکوٹکس نے گزشتہ رات منشیات منتقلی کی جگہ پر چھاپہ مارا اور مذکورہ منشیات برآمد کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپریشن مشترکہ کاروائیوں کے مؤثر ہونے کی واضح مثال جبکہ پکڑی گئی منشیات کی بڑی کھیپ منظم منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا مالی نقصان ہے۔ مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ گروہ کے مقامی سہولت کاروں، مالی معاونین و دیگر عناصر کی نشاندہی کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول ونگ سندھ نے گزشتہ روز دو مزید بڑی کاروائیاں کی ہیں، ایک کاروائی نارکوٹکس کنٹرول ونگ روہڑی سرکل نے جیل روڈ ایس آئی یو ٹی کمپلیکس کے قریب سر انجام دی گئی جہاں حساس ادارے کی اطلاع پر کامیاب کاروائی کے دوران ایک عدد فارچیونر گاڑی نمبر BJ-8268 سے 120کلوگرام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کرکے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسری کاروائی محکمہ نارکوٹکس کنٹرول ونگ جیکب آباد سرکل کی جانب سے ایگریکلچر کالج شکارپور روڈ پر کی گئی جہاں ایک بریڈ فورڈ ٹرک نمبر K-7844 سے دوران تلاشی 40 کلوگرام اعلی کی چرس برآمد کی گئی۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے منشیات اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنانے پر محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول ونگ کے افسران بالا، متعلقہ افسران اور انکی ٹیم کو زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ برآمد منشیات سے لاکھوں نوجوانوں نشے کا شکار ہوسکتے تھے۔ دریں اثناء صحافیوں کی جانب سے پیپلز موٹرسائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن اور محکمہ ایکسائز کا سسٹم بیٹھ جانے سے متعلق سوالات کے جواب میں صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ اب تک 15 ہزار افراد نے اپنی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کروالی ہے، تین ہزار افراد نے کامیابی کے ساتھ سبسڈی پروگرام کے لیے اپلائی کیا ہے جبکہ 1500افراد کو سندھ بینک میں اکاؤنٹ ہونے کی بدولت 2 ہزار روپے ٹرانسفر بھی کردیے گئے ہیں جبکہ دیگر بینکوں کے اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں دو سے تین دن میں پیسے ٹرانسفر ہوجائیں گے۔ انھوں مزید واضح کیا کہ محکمہ ایکسائز کا سسٹم بار بار ہیک کیے جانے کی کوششوں کے بعد تھوڑی دیر کے لیے بند کردیا گیا تھا جو محفوظ بنائے جانے کے بعد بحال کردیا گیا تھا۔



