ایران کا اپنا انٹیلی جنس چیف اسرائیلی ایجنٹ نکلا، پاکستان میں ‘شرپسندوں’ کا خطرناک کھیل شروع!

​تہران/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان میں حالات قابو سے باہر ہو گئے ہیں۔ تہران سے آنے والے سنسنی خیز انکشافات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جس اجلاس پر حملہ ہوا، اس کی مخبری کسی اور نے نہیں بلکہ ایران کے اپنے ہی حفاظتی نظام میں موجود ‘غداروں’ نے کی تھی۔ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ‘مساد’ کے ایجنٹوں کو پکڑنے کے لیے ایران نے جو خصوصی سیل بنایا تھا، اس کا اپنا انچارج ہی مساد کا پے رول ایجنٹ نکلا، جس کے ساتھ 20 اعلیٰ اہلکار بھی دشمن کے لیے کام کر رہے تھے۔ اسی غداری کے نتیجے میں عین اجلاس کے وقت ایک ہی جگہ پر 30 گولے داغے گئے جس میں پوری ٹاپ لیڈرشپ نشانہ بنی۔

​دوسری جانب، پاکستان میں اس سانحے کی آڑ میں ایک مخصوص ‘شرپسند گروہ’ نے اپنا ایجنڈا مکمل کرنے کے لیے ملک کو آگ لگا دی ہے۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ اور اسکردو میں اقوام متحدہ کے دفتر کو نذرِ آتش کرنا کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک خاص مائنڈ سیٹ عوام کے جذباتی غصے کو استعمال کر کے انہیں جلاؤ گھراؤ اور اپنے ہی ملک کی املاک تباہ کرنے پر اکسا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جہاں ایران کو اپنے اندر موجود ‘آستین کے سانپوں’ کو کچلنا ہے، وہیں پاکستان کو بھی ان عناصر کو پہچاننا ہوگا جو احتجاج کی آڑ میں ریاست کو کمزور کرنے کا ناپاک کھیل کھیل رہے ہیں۔ تہران میں ہونے والی غداری اور پاکستان میں پھیلی بدامنی کی مکمل اور سنسنی خیز تفصیلات جاننے کے لیے صحافی شکیل ملک کا یہ وی لاگ دیکھئے:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button