شہیدِ عوام فاضل راہو کی 39ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کے کسانوں اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے، ایم آر ڈی تحریک کے رہنما شہیدِ عوام محمد فاضل راہو کی 39ویں برسی ان کے آبائی گاؤں راہوکی میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
برسی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ شہید فاضل راہو ہم سب کے ہیرو ہیں اور سندھ پر جان قربان کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے تاکہ ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو بھی سندھ کی ہیرو تھیں جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کے پھندے کو سامنے دیکھ کر بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ آج سپریم کورٹ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل عدالتی قتل تھا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ ون یونٹ کے خلاف فاضل راہو کی جدوجہد پر سندھ ہمیشہ ان کا مقروض رہے گا۔
شہید محمد فاضل راہو کے فرزند اور صوبائی وزیر سندھ جامعات بورڈ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ فاضل راہو نے کسانوں، ہاریوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی اور ہر آمر و جابر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاضل راہو صرف نعرے لگانے والے رہنما نہیں تھے بلکہ عمل پر یقین رکھتے تھے، انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست اقتدار نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا نام ہے۔ آمریت کے ہر دور میں جیلیں کاٹیں مگر ان کا عزم کبھی کمزور نہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کے مفادات کا دفاع کیا ہے، سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، 18ویں ترمیم پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے اور اس کا تحفظ بھی پیپلز پارٹی ہی کرے گی۔
ایم این اے حاجی رسول بخش چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور شہید فاضل راہو کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں، محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد چیئرمین آصف علی زرداری کا “پاکستان کھپے” کا نعرہ تاریخ ساز تھا، آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی کا مشن جاری ہے۔
تقریب سے پیپلز پارٹی ضلع بدین کے صدر و چیئرمین ضلع کونسل جام علی اصغر ہالیپوٹو، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سجاد علی چانڈیو، ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح، پیر امجد صدیقی، نادر حسین خواجہ، عبدالغفور نظامانی، محمد اسلم راہو، شہناز راہو، شیربانو راہو، فاضل راہو جونیئر، ڈاکٹر دودو مہیری، پروفیسر عبداللہ ملاح اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ شہید فاضل راہو سندھ کی تاریخ کا روشن باب ہیں، ان کے خواب آج بھی ادھورے ہیں، ہاریوں کے مسائل اور معاشی ناانصافیاں برقرار ہیں، اس لیے ان کے مشن کو آگے بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو شہید فاضل راہو کی جدوجہد، فکر اور حوصلے سے سبق لینا چاہیے۔
برسی کے موقع پر سیاسی، سماجی تنظیموں، ہاری رہنماؤں، سول سوسائٹی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور فاتحہ خوانی کی گئی۔



