ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ثبوت نہیں، امریکی اسرائیلی الزامات بے بنیاد ہیں، روسی وزیر خارجہ

ماسکو(جانوڈاٹ پی کے)روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نےکہا ہےکہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا۔
ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانےکا کوئی ثبوت موجود نہیں، حالانکہ یہ الزامات ایران کے خلاف جنگ کا واحد جواز بتایا گیا، اب عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں سے بھی تصدیق ہوئی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ تو بنا رہا تھا اور نہ ہی اس کی کوشش کر رہا تھا۔
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ امریکی خصوصی صدراتی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی کیونکہ تہران یورینیم افزودگی کی نیت رکھتا تھا، حالانکہ یہ ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے، اگر ایران کی یورینیم افزودگی سے انکار نہ کرنےکو اس کے خلاف جارحیت کا سبب بنایا گیا تو یہ کئی سوالات اٹھاتا ہے، اب یہ وقت آ گیا ہے کہ امریکا سے اس بات پر سنجیدہ گفتگو کی جائےکہ وہ خودکو دنیا میں کس مقام پر دیکھتا ہے اور دیگر جوہری طاقتوں کو کس کردار میں دیکھتا ہے۔
انہوں نےکہا کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت عملاً جنگ جاری ہے، ایران جنگ سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوسکتی ہے، ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ سے نہ صرف ایران بلکہ اس کے دیگر پڑوسی عرب ممالک جوہری ہتھیاروں کے حصول پر آمادہ ہوسکتے ہیں اور جوہری پھیلاؤ کے مسائل قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں،مشرق وسطیٰ میں انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ بننے والی تمام کارروائیاں فوراً روک دینی چاہئیں، ہمارے دوست عرب ممالک بھی شہری انفرااسٹرکچر کی تباہی سے متاثر ہو رہے ہیں، ہمیں ان اقدامات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے بیانات سے ایسا لگتا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ لڑائی اس وقت تک جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک کہ ان کا حتمی مقصد واضح نہ ہو، اس حوالے سے روس اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائےگا تاکہ مشرق وسطیٰ میں مسئلہ مزید نہ بگڑے، مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیے صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
فلسطینی ریاست کے حوالے سے روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی بھی مفروضہ یا امکان ہر روز کم ہوتا جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست قائم ہو چکی ہے اور وہ بہت فعال بھی ہے لیکن فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں اور حتیٰ کہ اس کے قیام کا مفروضہ بھی دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرنا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔



