لاڑکانہ :ام رباب کے والد سمیت تہرے قتل کیس کے فیصلے سے قبل29 سے 31 مارچ تک قمبر شہدادکوٹ میں سکیورٹی ہائی الرٹ نافذ

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے والد سمیت تہرے قتل کے مقدمے کا 30 مارچ کو دادو ماڈل ٹرائل کورٹ کے متوقع فیصلے کے پیش نظر ضلع دادو کے بعد نواب سردار خان اور برہان چانڈیو کے ضلع قمبر شہدادکوٹ میں بھی سکیورٹی کے ہائی الرٹ کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں، ایس ایس پی آفس کی جانب سے جاری سکیورٹی پلان کے مطابق 29 سے 31 مارچ تک تین روز کے لیے ضلع بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے. پولیس حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سرکاری و نجی املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز، پولیس چوکیوں کے انچارجز، خصوصی ٹیمیں اور دیگر یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں.

حساس علاقوں، بازاروں، ضلعی عدالتوں کے داخلی و خارجی راستوں، سرکاری دفاتر، مرکزی شاہراہوں اور مختلف گروپس کے اجتماع گاہوں پر اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ بین الاضلاع سڑکوں اور اہم داخلی راستوں پر عارضی چیک پوسٹس قائم کر کے مشکوک افراد اور گاڑیوں کی سخت چیکنگ کا حکم دیا گیا ہے.

پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی کڑی نگرانی رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو بروقت روکا جا سکے، انٹیلیجنس اداروں کو صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ منصوبہ بند مظاہروں یا ریلیوں کی فوری اطلاع کنٹرول روم تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے،

فسادات سے نمٹنے کے لیے اینٹی رائٹ اور موبائل اسکواڈز کو الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی 24 گھنٹے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، اہم سرکاری عمارتوں، بینکوں، ٹرانسپورٹ اڈوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے.

ضلعی انتظامیہ نے رینجرز اور قریبی اضلاع کی پولیس کے ساتھ بھی رابطہ تیز کر دیا ہے جبکہ کنٹرول روم کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے گا فیصلے کے دن تمام افسران کو گھنٹہ وار رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا گیا ہے،

حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی.

مزید خبریں

Back to top button