غیر ملکی ایجنسیاں ’جاسوس کچھوؤں اور مچھلیوں‘ کے ذریعے چینی سمندروں پر نظر رکھ رہی ہیں، چین کا دعویٰ

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک کے سمندری علاقوں کی نگرانی کے لیے غیر روایتی اور جدید جاسوسی طریقے استعمال کر رہی ہیں، جن میں سینسرز سے لیس آبی جانور بھی شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق چینی سمندروں میں ایک “خفیہ نگرانی کی جنگ” جاری ہے، جہاں مختلف آلات کے ذریعے حساس معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان طریقوں میں “جاسوس کچھوے” اور “جاسوس مچھلیاں” شامل ہیں، جن پر سینسرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ وہ پانی کے درجہ حرارت، نمکیات اور سمندری بہاؤ جیسے ڈیٹا کو ریکارڈ کر سکیں۔
چینی حکام کے مطابق یہ معلومات حقیقی وقت میں سیٹلائٹ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کی جا سکتی ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
تاہم وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ جانور کہاں پائے گئے یا انہیں کس ملک یا ادارے نے استعمال کیا۔



