اسکول اسپیسفک بجٹ میں مبینہ کرپشن: محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)سندھ میں “اسکول اسپیسفک بجٹ” میں مبینہ خرد برد کے معاملے پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے افسران کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی منظوری کے بعد کرپشن میں ملوث افسران کو نوکریوں سے برخاست کرنے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق سروس رولز کے تحت کارروائی کے پہلے مرحلے میں 6 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فنڈز کے استعمال کے تحت خریدے گئے فرنیچر اور دیگر سامان 15 دن کے اندر جمع کروائیں اور اخراجات کا مکمل ریکارڈ پیش کریں۔
ذرائع کے مطابق ضلع جیکب آباد میں تعینات تعلیمی افسران نے اسکول اسپیسفک بجٹ کا غلط استعمال کیا، تاہم اسکولوں پر اخراجات کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ فنڈز کے استعمال کے باوجود اسکولوں میں نہ تو فرنیچر فراہم کیا گیا اور نہ ہی دیگر خریداری میں ظاہر کیا گیا سامان موجود پایا گیا۔
کارروائی کی زد میں آنے والے افسران میں جیکب آباد کے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سید رضا حسین شاہ، تعلقہ ٹھل کی ایجوکیشن افسر نائلہ دایو، تعلقہ جیکب آباد پرائمری میل کے ٹی ای او صدیق علی میرانی اور پرائمری فیمیل کی تعلقہ ایجوکیشن افسر قمر النساء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تعلقہ ٹھل کی سابق تعلقہ ایجوکیشن افسر فرحت یاسمین کے خلاف بھی نوکری سے برخاستگی کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق ان افسران نے مجموعی طور پر 1 کروڑ 35 لاکھ 70 ہزار 600 روپے کے فنڈز استعمال کیے، تاہم اس کے باوجود اسکولوں میں سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مزید کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔



