سعودی عرب نے اسرائیل کی علاقائی بالادستی کا امریکی دعویٰ مسترد کردیا

ریاض(جانوڈاٹ پی کے)سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ پر مبینہ بالادستی سے متعلق بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ریمارکس ناقابل قبول ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بیان عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ریاض نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے بیانات کشیدگی کو ہوا دینے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے اس دعوے کو جس میں انہوں نے اسرائیل کو پورے خطے پر قبضے کا حق حاصل ہونے کی بات کی تھی اسے مسترد کیا جاتا ہے۔

سعودی حکومت نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے اور ایسے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ اسرائیل کو پورےخطے پر قبضے کا حق ہے۔

مزید خبریں

Back to top button