ایس ایچ او ٹنڈو غلام علی پر چادراور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کا الزام

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)بدین کے شہر ٹنڈو غلام علی میں پولیس کی جانب سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔سمان برادری سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندان نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ریٹائرڈ ماسٹر محمد صدیق سموں نے اپنی بیٹیوں اور گھر کی دیگر خواتین کے ساتھ میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے بروز ہفتہ ایس ایچ او ٹنڈو غلام علی اور سی آئی اے بدین کے اہلکاروں نے، جن میں سے بعض برقعہ پوش تھے، اچانک ان کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ متاثرین کے مطابق پولیس نے گھر میں موجود خاتون سکینہ سموں، ان کے تین بیٹوں کاشف، عرفان، مشتاق اور داماد رزاق کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حراست میں لے لیا چھاپے کے دوران پولیس اہلکار گھر سے سونے کے زیورات، نقد رقم سے بھری پیٹیاں اور مویشی بھی قبضے میں لے کر چلے گئے۔ اگلے دن مزید کارروائی کرتے ہوئے چانڈیا نگر کے علاقے سے محمد صدیق کے بھائی اکرم سموں اور ان کے بیٹے غلام کو بھی گرفتار کر لیا گیا

محمد صدیق سموں نے کہا کہ پولیس نے ڈکیتی کے کسی واقعے کا جواز بنا کر ان کے گھروں میں داخل ہوئی، حالانکہ حقیقت میں انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا برقعہ پہن کر گھروں میں داخل ہونا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی انتہائی شرمناک عمل ہے، جس سے بیٹیوں کی بے حرمتی کی گئی ہے متاثرہ خاندان نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او ٹنڈو غلام علی اور متعلقہ سی آئی اے اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی چھاپے کا مقدمہ درج کیا جائے، گھر سے لے جایا گیا قیمتی سامان اور رقم فوری طور پر واپس کرائی جائے، بے گناہ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button