چین کی بندرگاہ پر روبوٹس کاراج…انسان ختم

چین کا "گوسٹ لاجسٹکس سینٹر" — انسانوں کے بغیر چلنے والا مستقبل کا گودام

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)دنیا تیزی سے صنعتی انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے اور چین نے اس سفر میں ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ملک کے ایک جدید ترین شہر میں قائم "گوسٹ لاجسٹکس سینٹر" نے لاجسٹکس اور سپلائی چین کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔China's major Tianjin port banks on robots to beat post-COVID-19 disruptions

یہ مرکز اپنی نوعیت کا پہلا ایسا گودام ہے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹس کے ذریعے چلایا جاتا ہے  یہاں کسی بھی مرحلے پر انسانی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی۔

روبوٹ سامان کی وصولی، درجہ بندی، پیکنگ، اور ترسیل کے تمام مراحل خودکار انداز میں انجام دیتے ہیں۔ AI الگورتھمز ہر آرڈر کا تجزیہ کرتے ہیں، ترسیل کا بہترین راستہ طے کرتے ہیں، اور توانائی کی بچت کے لیے کام کے بہاؤ کو مسلسل بہتر بناتے ہیں۔

یہ نظام نہ صرف رفتار میں اضافہ کرتا ہے بلکہ غلطیوں کی شرح کو تقریباً صفر تک لے آیا ہے۔ ایک عام گودام جہاں درجنوں یا سینکڑوں ملازمین کام کرتے ہیں، وہاں یہ پورا نظام چوبیس گھنٹے بلا تعطل چلتا ہے۔The World’s Smartest Port: How China Won the Shipping Race

چین کے ماہرین کے مطابق، "گوسٹ لاجسٹکس سینٹر” مستقبل کے سمارٹ شہروں اور ڈیجیٹل سپلائی نیٹ ورکس کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اس ماڈل سے دنیا بھر میں لاجسٹکس انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے، اور بڑی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس پیشرفت کے ساتھ ایک اہم بحث بھی جنم لے رہی ہے — انسانی روزگار کا مستقبل۔ چونکہ یہ نظام مکمل طور پر خودکار ہے، اس سے لاکھوں افراد کی نوکریوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔

پھر بھی، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے مراکز نئی تکنیکی مہارتوں کی مانگ پیدا کریں گے، جہاں انسان AI انجینئرنگ، روبوٹ مینٹی ننس، اور ڈیٹا تجزیہ جیسے شعبوں میں نئے کردار ادا کریں گے۔

آخرکار، "گوسٹ لاجسٹکس سینٹر” صرف ایک گودام نہیں بلکہ خودکار دنیا کی جھلک ہے ۔ جہاں رفتار، درستگی، اور ذہانت ایک ساتھ کام کرتی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button