سعودی عرب کاامریکیF-35کے متبادل پر غور،پاکستانیJF-17تھنڈر کی خریداری پرمذاکرات

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب امریکی جنگی طیارے F-35کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث متبادل آپشنز پر سنجیدگی سے غور کرنے لگا ہے، جس کے تحت چینی اور پاکستانی اشتراک سے تیار کردہ JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دفاعی صلاحیتوں کو متنوع بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ F-35 پروگرام میں شمولیت کے حوالے سے سعودی عرب کو طویل تاخیر، سیاسی شرائط اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال جیسے عوامل کا سامنا ہے، جس کے باعث ریاض نے دیگر قابلِ اعتماد اور کم لاگت متبادل پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
JF-17 تھنڈر، جو پاکستان ایئر فورس کا مرکزی جنگی طیارہ ہے، اپنی جدید ایویونکس، ملٹی رول صلاحیت، کم آپریٹنگ لاگت اور مختلف ہتھیاروں سے ہم آہنگی کی وجہ سے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ طیارے کا جدید بلاک تھری ورژن AESA ریڈار اور جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب JF-17 کی خریداری کی جانب بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی توازن پر اثر ڈالے گا بلکہ پاکستان اور چین کے لیے دفاعی برآمدات کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
تاحال سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم یہ پیش رفت عالمی دفاعی منڈی میں بدلتے ہوئے رجحانات اور امریکی اجارہ داری سے ہٹنے کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔



