شہریوں کی شکایات پر مختیار کار آ فیس بدین کا سینئر سپر وائزر معطل

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)محکمہ روینو بدین کے سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے اور جعل داخلے اور سیل سرٹیفکیٹ جاری ہونے کی کھاتے دار شہریوں کی شکایات پر مختیار کار آ فیس بدین کا سینئر سپر وائزر معطل سرکاری زمین کی جعلی داخلا مسترد تفصیل کے مطابق گزشتہ کافی عرصے سے مختیار کار آ فیس بدین میں موجود سرکاری ریکارڈ میں کافی عرصہ پہلے فوت ہو جانے والے شہریوں کے قیمتی پلاٹوں اور زرعی زمینوں کے علاوہ سرکاری املاک کے جعلسازی کے ذریعے جعلی کھاتے او داخلا ئیں اور ان کے جعلی سیل سرٹیفکیٹ جاری کرکے وہ زمینیں اور پلاٹس سمیت شہریوں کی اور سرکاری املاک کی فروخت کی شکایات کے بعد سینئر میمبر بورڈ آ ف روینیو سندھ نے مختیار کار بدین کی آفیس میں تعینات روینیو سپر وائزر علی نواز سموں کو معطل کردیا ہے اور دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر بدین کی آ فیس کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کے مذکورہ معطل ہونے والے سپر وائزر علی نواز سموں بدین کے ایک جعلساز گروہ کے سرغنہ اٹھارہ گریڈ کے ایک افسر سے ملی بھگت کرکے بدین شہر میں سرکاری افسران اور ملازمین کی رہائشی ایگروول کالونی سے منسلک کچی آ بادی میں عرصہ دراز سے رہائش پزیر شہریوں کے پلاٹوں کے جعلی کاغذات بنا کر سرکاری روینیو رکارڈ میں جعلی داخلا ئیں درج کرکے پلاٹ کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا کچھ دن پہلے اس وقت انکشاف ہوا جب مذکورہ سپر وائزر علی نواز سموں نے اس جعلساز افسر جو کے کافی عرصے سے اپنی ڈیوٹی سے بھی غائب ہے سے ملی بھگت کرکے اسی کچی آ بادی میں چودہ ہزار چار سو اسکوائر فٹ پلاٹ کے جعلی کاغذات بنا کر اور روینیو رکارڈ میں جعلی داخلا درج کرکے اس کا جعلی سیل سرٹیفکیٹ جاری کرانے کرانے کے لیئے پہلے مختیار کار سے دستخط کرا لیئے اور جب اسسٹنٹ کمشنر کے پاس وہ سرٹیفکیٹ دستخط کے لیئے پہنچائے تو انہونے درخواست گزار کی شناختی کارڈ اور دوسرے مطلوبہ کاغذات طلب کیئے جو سپر وائزر پیش نہ کرسکا جس پر اسسٹنٹ کمشنر بدین نے شک کی بنیاد پر تحقیقات کرائی جس میں سپروائیز علی نواز سموں کی جانب سے پیش کیئے گئے سیل سرٹیفکیٹ اور اس پلاٹ کی داخلا جعلی ثابت ہونے پر اسسٹنٹ کمشنر نے اس پلاٹ کی روینیو رکارڈ میں داخلا مسترد اور سیل سرٹیفکیٹ بھی کینسل کردیا ہے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کے مذکورہ سپر وائزر علی نواز سموں اور اس جعلساز سرکاری افسر سے ملی بھگت کرکے پچاس سالوں پہلے فوت ہونے والے شہریوں کی زمینوں اور پلاٹس دنیاں سے رخصت ہو جانے والے افراد سے وہ زمینیں اور پلاٹس خرید کے جعلی کاغذات بناکر جعلی کھاتے درج کرنے کے درجنوں کیس منظر عام پر آ نے اور وہ جعلی کھاتے سترد ہونے کے بعد بھی اس گروہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے جبکہ مذکورہ سپروائیزر اس جعلساز افسر پر سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کرنے کے ثبوت موجود ہونے کے باوجود اس لیئے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے محکمہ روینیو کے ذرائع کے مطابق بدین میں اس جعلسازی میں بدین کے دو سابقہ ڈی سیز اور روینیو بورڈ کے کچھ آفسران شامل ہیں جنہونے بدین میں جعلسازی کے ذریعے کروڑوں روپے کی زمینیں ہتھیائی ہیں بدین کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور محکمہ روینیو کے صوبائی وزیر اور چیئرمین اینٹی کرپشن سے اس معامرے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔



