ٹھٹھہ:سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کا احتجاج، حکومت سے فوری مطالبات کی منظوری کا مطالبہ

ٹھٹھہ ( رپورٹ جاوید لطیف میمن جانو/پی کے )سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے سراپا احتجاج

سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل حل کر کے انہیں پریشانی سے نجات دلائی جائے۔

اس سلسلے میں ضلع ٹھٹھہ کے متعدد ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز نے اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے سندھ پنشنرز الائنس (SPA) کے پلیٹ فارم سے پریس کلب ٹھٹھہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت ملازم رہنماؤں محمد اقبال جوکھیو، عبدالطیف بھٹی، نثار احمد راجپوت، محمد سلیمان جوکھیو، امام بخش میراںی، غلام حسین خاصخیلی، ذوالفقار بروہی، نواز علی شاہ رضوی، عبدالفتاح عمراںی، علی حسن گابار، محمد صدیق قاضی اور کامریڈ یعقوب سموں نے کی۔

مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور ان کے جائز مطالبات جیسے گروپ انشورنس، بینیول فنڈ، ہیلتھ کارڈ، تنخواہوں میں اضافہ، سَن کوٹہ اور فوتی کوٹہ پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے وہ احتجاج پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صرف دلاسے دے رہی ہے لیکن ان کے جائز مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کو بلوچستان صوبے کی طرح 2009 سے گروپ انشورنس کی رقم ادا کی جائے، ریٹائرڈ ملازمین کو مفت علاج کی سہولت کے لیے ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں، سالانہ بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے سندھ میں تنخواہوں اور پنشن کے فرق کو ختم کر کے یکساں اضافہ کیا جائے، زندہ ریٹائرڈ ملازمین کو بلوچستان کی طرح 1987 سے بینیول فنڈ دیا جائے، وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کردہ 2022 کے 10 فیصد پنشن اضافے کو دیگر صوبوں اور وفاقی پنشنرز کی طرح سندھ کے پنشنرز کو بھی دیا جائے، نیز سَن کوٹہ اور فوتی کوٹہ فراہم کر کے تمام جائز مسائل حل کیے جائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو سخت احتجاج کیا جائے گا اور مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں کراچی میں بھی شدید احتجاج کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button