آرامکو کی رأس تنورة ریفائنری پر مبینہ ڈرون حملہ، سعودی عرب نے تنصیب بند کردی

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کی تنصیبات میں سے ایک، آرامکو کی رأس تنورة ریفائنری کو مبینہ طور پر ایرانی ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد سعودی حکام نے آئل ریفائنری کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی خلیجی خطے میں توانائی کے اہم مراکز کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق صبح کے وقت کیے گئے اس حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں معمولی آگ بھڑک اٹھی لیکن مقامی عملے کی بروقت کارروائی کے باعث آگ کو جلد قابو میں کر لیا گیا اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رأس تنورة ریفائنری سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں خلیج فارس کے کنارے واقع ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے اور دنیا بھر میں توانائی کی اہم تنصیبات میں شمار کی جاتی ہے۔ یہاں خام تیل کی ریفائننگ کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں کے ذریعے عالمی منڈی کیلئے برآمدات بھی کی جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور حالیہ دنوں میں میزائل و ڈرون حملوں کا حصہ ہے۔ ایران اور اس کے حمایتی گروہوں نے متعدد خلیجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سعودی عرب نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سعودی حکام نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور ایسی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔



