’’ہماری مذاکرات کیلئے کوئی شرط نہیں‘‘ اصل رکاوٹ کون؟رانا ثنااللہ نے سب بتا دیا

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے)وزیراعظم مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش بالکل واضح اور غیر مشروط ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش سے قبل نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی دوسری اور تیسری سطح کی قیادت مذاکرات کی بات کرتی ہے، تاہم جب تک بانی پی ٹی آئی کی جانب سے واضح پالیسی سامنے نہیں آتی، اس وقت تک کسی میٹنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا، حتیٰ کہ علیمہ خان نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان کی نمائندگی نہیں کرتا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق پی ٹی آئی نے پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مذاکرات نہیں بلکہ تصادم چاہتے ہیں۔

مشیر سیاسی امور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی 2011 سے آج تک مذاکرات میں رکاوٹ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے مکمل سنجیدگی موجود ہے، جبکہ دوسری طرف ابہام اور کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی مذاکرات چاہتے ہیں تو پی ٹی آئی کیوں نہیں کہتی کہ وزیراعظم کی پیشکش موصول ہو چکی ہے اور وہ کس وقت ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے یہاں تک پیشکش کی ہے کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم ہاؤس نہیں آنا چاہتی تو سپیکر چیمبر میں ملاقات ہو سکتی ہے، جس پر کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ اگر اجازت کا مسئلہ ہے تو یہی بات براہ راست وزیراعظم کے سامنے رکھی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ منظوری کے موقع پر بھی وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم اس وقت بھی پی ٹی آئی نے اجازت نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر اور اپوزیشن لیڈر اس معاملے پر فیصلہ کر لیں گے، جبکہ اپوزیشن کی درخواست کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کی کاپی سپیکر آفس میں جمع کرا دی گئی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسی کو مائنس نہیں کیا، بلکہ ماضی میں حکومت کو مائنس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وزیراعظم سے ملاقات کرے، اپنا مؤقف سامنے رکھے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھائے۔

مزید خبریں

Back to top button