بدین:نریڑی جھیل میں زہریلے پانی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث روزگار ختم ہونے کیخلاف ماہی گیروں کا احتجاج کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)عالمی سطح پر رامسر سائٹ قرار دی گئی بدین کی نریڑی جھیل سمیت ساحلی علاقوں میں سیم نالوں کے زہریلے پانی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث ماہی گیروں کا روزگار ختم ہونے کے خلاف ماہی گیروں نے احتجاج کا اعلان اور رامسر سائٹ کے تحفظ اور ماہی گیروں کا روزگار بچانے کا مطالبہ کیا تفصیلات کے مطابق پاکستان فشر فوک فورم کے اجلاس میں ماہی گیر رہنماؤں حاجی نبی بخش ملاح، عبدالرحیم چنڈا نی، محمد عمر ملاح، محمد قاسم بچو، مٹھن ملاح، عبدالرزاق ملاح اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بدین کے ساحلی علاقوں میں انصاری شوگر ملز، دیوان شوگر ملز، آبادگار شوگر ملز سمیت دیگر شوگر ملوں، فیکٹریوں اور ایل بی او ڈی سیم نالے کا گندا اور زہریلا پانی مسلسل رامسر سائٹ نریڑی جھیل، سدابہار اور سمندری علاقوں میں چھوڑا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس زہریلے پانی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث علاقے میں ماہی گیروں کا روزگار تباہ ہو رہا ہے، جبکہ سمندر جو پہلے دو سو کلومیٹر دور تھا، میٹھے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے اور زرخیز زمینوں کو ڈبو کر انہیں بنجر بنا رہا ہے، جس کے باعث گولارچی اور بدین تعلقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے مچھلی اور جھینگے کے کاروبار پر منفی اثرات پڑنے سے ماہی گیروں کا روزگار ختم ہو رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے علاقے کو بچاؤ بند دینے کے وعدے پر اب تک کوئی عمل نہیں کیا گیا ماہی گیروں نے ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر بدین، منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز سے مطالبہ کیا ہے کہ بدین کے ساحلی علاقے کو تباہی سے بچانے کے لیے شوگر ملوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں، بچاؤ بند تعمیر کرائے جائیں اور سمندر کو آگے بڑھنے سے روک کر ساحلی علاقوں کو تباہی سے محفوظ بنایا جائے۔



