ٹھٹھہ میں طوفانی بارشوں سے ہرطرف تباہی، سینکڑوں مکانات منہدم، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن )ضلع ٹھٹھہ میں گرج چمک کے ساتھ شروع ہونے والی تیز طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی۔ سینکڑوں کچے مکانات زمین بوس ہو گئے، متعدد افراد زخمی
گزشتہ روز سے ضلع ٹھٹھہ میں گرج چمک کے ساتھ شروع ہونے والی تیز طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی۔ سینکڑوں کچے مکانات زمین بوس ہو گئے، متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص جاں بحق بھی ہو گیا۔ بڑی تعداد میں درخت اور سولر پلیٹیں گر گئیں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث کسانوں اور آبادگاروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے اور انہوں نے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ شام سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں نے درگاہ ستیوں، گاؤں خالو میر بحر، چاڑھی کے گاؤں جمعون میر بحر سمیت ضلع کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں تباہی پھیلائی۔ متعدد کچے مکانات کی چھتیں اڑ گئیں اور کئی مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے، جبکہ زخمی افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مکلی کے قریب جام واہ کے علاقے گاؤں سومار خاصخیلی اور مولا بخش خاصخیلی میں گھروں کی چھت گرنے سے دو بچیوں سمیت پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اسی طرح میرپور ساکرو، بہارا، گھارو، جھمپیر، جنگشاہی، جنگھڑی، سونڈا اور جھرک سمیت دیگر علاقوں میں بھی طوفانی بارشوں کے باعث کچے مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
میرپور ساکرو کی ساحلی پٹی سے تعلق رکھنے والے گاؤں حاجی سہراب احمدانی کے رہائشی بھی بارش سے متاثر ہوئے ہیں اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بہارا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ملاح برادری کے بچل ملاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔
بارشوں کے باعث کئی درخت اور سائن بورڈ بھی گر گئے، جبکہ تیار کھڑی فصلیں، گندم اور سبزیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اس نقصان کے باعث کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث ٹھٹھہ شہر اور مکلی کی کچی آبادیوں میں پانی کھڑا ہو گیا ہے جس سے گندگی اور مچھروں کی بہتات ہو گئی ہے۔
بارش کے بعد بجلی اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ کئی پرانے بجلی کے کھمبے گرنے کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ گزشتہ روز سے جاری بارشوں کے باعث عید کی خریداری بھی متاثر ہوئی ہے جس سے دکاندار اور تاجر بھی پریشان ہیں۔
شہریوں اور دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھ چکی ہے، تو دوسری طرف بارشوں نے غریبوں کے کچے مکانات تباہ کر کے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ متاثرہ افراد نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا سروے کر کے ازالہ کیا جائے، انہیں نئے گھر فراہم کیے جائیں، امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں اور کچی آبادیوں میں جمع پانی کی نکاسی کا بندوبست کیا جائے



