قومی عوامی تحریک کا27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)قومی عوامی تحریک کے مرکزی عہدیدران مظہر راہو جو ، زینت سموں ، شہربانو راہو جو کا عوامی رابطہ مہم کے اجتماعات سے خطاب 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان۔
قومی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر زینت سموں اور شہربانو راہوجو نے عوامی رابطہ مہم اور تنظيم سازی کے سلسلہ میں بدین ضلع کے مختلف شہروں اور دیہاتوں کورواہ، وکیو لاشاری، کڑیو گھنور، بدین، تلہار، ننڈو، لواری شریف، مرحوم نور محمد پنهور گوٹھ، ٹنڈو باگو، ماکوڙو بھیل گوٹھ اور دیگر علاقوں کا تنظیمی دورہ کیا۔ اس موقع پر سندھیانی تحریک کی جانب سے نئے یونٹس قائم کیے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر زینت سموں نے کہا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کو سندھ میں نئے صوبے بنانے کا کوئی اختیار نہیں۔ ہم 27ویں آئینی ترمیم کے نام پر سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ لاکھوں سندھیاں مزاحمت کریں گی۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لیں، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ سندھ کے ساتھ زیادتیاں، جبر اور دھوکے کیے ہیں۔قومی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری مظہر راہوجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھ کے لوگوں کو اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنے کا سندھ دشمن منصوبہ تیار کیا گیا ہے، مگر سات کروڑ سندھی ایسی کسی ترمیم کو قبول نہیں کریں گے۔ پیپلز پارٹی کا ایجنڈا صرف اقتدار اور کرپشن ہے۔ سندھی عوام اپنی زمین، دریا اور وسائل کے تحفظ کے لیے آخری قطرہ خون تک لڑیں گے کیونکہ یہ نسلوں کے وجود کی جنگ ہے۔ پیپلز پارٹی منافق جماعت ہے، جس نے اقتدار کے بدلے سندھ، سندھودریا، زمینیں، جزیرے، پہاڑ، کارونجھر، جھیلیں اور وسائل سب بیچ ڈالے ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی سندھ قوم سے دھوکا کرے گی۔سندھیانی تحریک کی رہنما شازیہ احمداڻي نے اپنے خطاب میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف سندھ کے لوگ منظم، طویل اور ثابت قدم جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں۔ چور حکمران اور ان کے آقا عوام کو خوفزدہ کر کے گھروں میں بٹھانا چاہتے ہیں، مگر ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا۔ ہمیں حوصلے، ہمت، بہادری اور سچائی کے ساتھ پُرامن مگر ثابت قدم جدوجہد کے میدان میں ڈٹنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت یہ سمجھ لے کہ سات کروڑ سندھیوں کے لیے یہ بقاء کی جنگ ہے ایک طویل جدوجہد ہے۔ جب تک ایک بھی سندھی بیٹی زندہ ہے، وہ اپنی دھرتی، دریا، زمینوں اور وسائل کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی



