سی بی اے ایل ایس منصوبے کی اختتامی ورکشاپ، تھرپارکر اور گلگت میں 3,600 بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کی گئی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)کمیونٹی بیسڈ ایکسلریٹڈ لرننگ اسپیسز (CBALS) منصوبے کی اختتامی ورکشاپ بینظیر بھٹو گرلز کمپلیکس مٹھی میں ریڈ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس میں منصوبے کی تین سالہ کارکردگی، کامیابیوں اور نتائج کا جائزہ لیا گیا۔   ورکشاپ میں بتایا گیا کہ ریڈ فاؤنڈیشن نے ضلع تھرپارکر کے تعلقہ مٹھی، ڈیپلو اور اسلام کوٹ میں مجموعی طور پر 45 کمیونٹی بیسڈ ایکسلریٹڈ لرننگ مراکز قائم کیے، جن میں مٹھی میں 24، ڈیپلو میں 7 اور اسلام کوٹ میں 14 مراکز شامل ہیں۔ منصوبہ اپریل 2023 میں شروع ہوا جو مارچ 2026 میں کامیابی سے مکمل ہوا۔   منصوبے کے تحت دو صوبوں میں مجموعی طور پر 3,600 بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کی گئی، جن میں گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 2,250 جبکہ ضلع تھرپارکر میں 1,350 بچے شامل ہیں۔   تقریب میں پروجیکٹ منیجر قمر اسلام، منیجر ایجوکیشن ساجد علی بخاری، ہیڈ آف پروگرامز کامران علی سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، کمیونٹی نمائندگان، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔   ورکشاپ کے دوران 120 مقامی اساتذہ کی تربیت اور بچوں کی تعلیمی بہتری کو منصوبے کی اہم کامیابی قرار دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ منصوبہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مؤثر ماڈل ثابت ہوا ہے۔   مقررین نے ریڈ فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے نے نہ صرف بچوں کو تعلیم سے جوڑا بلکہ والدین اور کمیونٹی میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے شعور بھی بیدار کیا۔   تقریب کے اختتام پر ریڈ فاؤنڈیشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ آئندہ بھی پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے گا.

مزید خبریں

Back to top button