پیوٹن اور ایرانی صدر کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ماسکو(ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بات چیت ہوئی، خاص طور پر ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ایک ہفتے کے دوران دوسری ٹیلیفونک گفتگو تھی، اس سے قبل 6 مارچ کو بھی دونوں صدور کے درمیان رابطہ ہوا تھا جبکہ 9 مارچ کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی۔
گفتگو کے دوران روسی صدر نے تنازع کے جلد از جلد خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ولادیمیر پیوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس اصولی طور پر بحران کے حل کے لئے سیاسی اور سفارتی ذرائع کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر ایران کے لئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا، خاص طور پر ایران کو فراہم کی جانے والی انسانی ہمدردی کی امداد پر۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے دوران تہران سمیت کئی بڑے ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا، اس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔



