پنجاب میں زیورِ تعلیم، صلۂ فن، نئی زندگی اور ہم قدم پروگرامز کے تحت مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں آراء

دیپال پور(محمد اسلم بھٹی)وائس چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی جہاں آراء منظور وٹو نے نجی ہوٹل میں سماجی انصاف کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ خصوصی سیمینار میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ "ایمپاورنگ اِنکلوژن: برِجنگ گیپس فار سوشل جسٹس اَنڈر دی ریسٹورنگ سوشل سروسز اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس”کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب کا انعقاد آگاہی فاؤنڈیشن اور پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ نے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے اشتراک سے کیا جس کا مقصد شمولیتی ترقی کو فروغ دینا، سماجی خدمات کی بحالی کو مؤثر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنا تھااپنے خطاب میں وائس چیئرپرسن نے کہا کہ شدید گرمی، بے موسمی بارشیں، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمیاتی اثرات معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں، جس سے غربت اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے میں ایک مضبوط اور جامع سماجی تحفظ کا نظام قومی ذمہ داری ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے بلکہ انہیں طویل المدتی بنیادوں پر بااختیار بنا کر موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے قابل بھی بنایا جا سکے۔وائس چیئرپرسن نے پی ایس پی اے کے پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ زیورِ تعلیم پروگرام کے تحت 18 اضلاع میں جماعت 6 تا 10 کی طالبات کو 80فیصد حاضری پر سہ ماہی بنیادوں پر 3,000 روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ صلۂ فن پروگرام کے ذریعے بزرگ فنکاروں، شعراء اور ادیبوں کو ماہانہ 5,000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ نئی زندگی پروگرام تیزاب گردی سے متاثرہ افراد کو مفت علاج، پلاسٹک و ری کنسٹرکٹیو سرجری، نفسیاتی مشاورت، ہنر مندی کی تربیت اور بلاسود قرضے فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مساوات پروگرام کے تحت معذورخواجہ سرا افراد کو 3000 اور بزرگ خواجہ سرا افراد کو 2000ماہانہ مالی معاونت اور100,000روپے تک بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں، جبکہ ہم قدم پروگرام کے تحت خصوصی افراد کو2000 روپے وظیفہ فراہم کیا جا رہا ہے ۔وائس چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ پنجاب ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت13 اضلاع میں آغوش پروگرام کے ذریعے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو 33,000 روپے تک کی مشروط مالی معاونت دی جا ر ہی ہے۔ خود مختار پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والی افرادکو 150,000 روپے تک کے پیداواری اثاثے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ بنیاد پروگرام ے ذریعے 3 سے 8 سال کے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی ماحول کی بہتری پر کام کر رہا ہےمزیدبرآں، وائس چیئرپرسن نے کہا کہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری شفافیت اور مستحق افراد کی درست نشاندہی میں اہم کردار ادا کر رہا ہےجومحض ایک ڈیٹا بیس نہیں بلکہ سماجی انصاف کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، جو جدید اور سائنسی بنیادوں پر مستحق افراد کی درست نشاندہی کرتا ہےاختتام پر وائس چیئرپرسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں کوئی بھی فرد پیچھے نہیں رہے گا اور حکومت ایک منصفانہ اور شمولیتی معاشرے کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اگاہی فاؤنڈیشن اور پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ سمیت تمام شرکاء کا کامیاب سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔



