66ہزارمولویوں کی سکریننگ مانیٹرنگ مکمل،ریاست مخالف بیانیہ پر بڑی کارروائی کا اعلان

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پنجاب حکومت نے ریاستی پالیسیوں کیخلاف بیانات دینے والے علما کرام کو سرکاری اعزازیے نہ دینے اور سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب حکومت نے نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اطلاق کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنیوالے علما کے اعزازیے فوری بند کرنے اور مذکورہ عالم کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے محکمہ داخلہ پنجاب کی تجاویز پر پالیسی کی منظوری دیدی۔ پالیسی میں کہا گیا تھا کہ اعزازیہ صرف ذمہ دار اور قانون کے پابند علما کو دیا جائے گا، نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی ہوگی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اعزازیہ اسکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کا فروغ ہے، قانون کی خلاف ورزی پرکسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، نفرت انگیز مواد یا تقاریر ثابت ہونے پر فہرست سے فوری اخراج ہوگا۔سفارش میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے، جس کے تحت صوبے کے66ہزار امام مسجد صاحبان کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلئیر قرار دے دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق این او سی حاصل کرنے والوں کے خلاف کوئی ریاست مخالف سرگرمی ثابت نہ ہوسکی، یہ مکمل قانون کی پاسداری کررہے ہیں ہمارے لئے نہایت ہی قابل احترام ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ فہرست کی باقاعدہ اسکریننگ اور مانیٹرنگ جاری رہے گی جبکہ مستقبل میں بھی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی اور امن عامہ متاثر کرنے والے عناصر کو کسی قسم کا سرکاری اعزازیہ دیا جائے گا اور انہ سرپرستی ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button