پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کا دھرنا، گیٹ بند، پولیس کی بھاری نفری تعینات

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ مرکزی بھی گیٹ بند کر دیا گیا۔
میڈیا نیوز کے مطابق پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں جبکہ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہوگئی، ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا۔
پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔
پی ٹی رہنماء احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ گیٹ بند ہونے کے باعث پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز باہر نہ نکل سکے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس مظاہرین کی قیادت کررہے ہیں جب کہ مظاہرین میں محمود خان اچکزئی اور بیرسٹرگوہر بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی گیٹ سے کیبنٹ گیٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری سے ملاقات کی اور تحفظات سے آگاہ کیا، ملاقات میں بیرسٹر گوہر بھی موجود تھے، اپوزیشن لیڈر نے پارلیمنٹیرینز کو باہر نکلنے سے روکنے پر احتجاج کیا۔
اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا اور ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی, اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی دھرنے میں بیٹھ گئے۔
کئی گھنٹوں بعد بھی یہ صورتحال ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ دھرنے میں موجود ہیں اور پارلیمنٹ کے تمام دروازے تاحال نہیں کھولے گئے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے اندر نہ پہنچ سکے، پارلیمنٹ ہاؤس میں لائٹس بند کردی گئیں۔
پی ٹی آئی قیادت اندھیرے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر آکر بیٹھ گئی اور عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کرتی رہی۔



