پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ شدید بحران کا شکار، تنظیم دو دھڑوں میں تقسیم

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) سندھ میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب پرائمری اساتذہ کی تنظیم پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے. مرکز سے تحصیل سطح پر دو دو بار انتخاب کرانے کے لئے الگ الگ انتخابی شیڈول جاری کرنے کے بعد ایک گروپ کے تحت گذشتہ روز تمام تحصیلوں میں بلا مقابلہ عہدیدار منتخب کرائے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کے عہدیدار بھی الگ سے بلا مقابلہ کامیابی کے لئے پرامید اور تیار بیٹھے ہوئے ہیں.

اس سے قبل صوبے بھر میں اس تنظیم کا ہر تین سال بعد ایک ہی الیکشن ہوا کرتا تھا لیکن اس بار صورتحال بلکل مختلف ہے، چونکہ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ محکمہ انڈسٹری میں رجسٹرڈ ہے اس لئے اس محکمہ کی جانب سے نئے انتجاب کے لئے عبدالخالق بھنگوار کی چیئرمین شپ میں مرکزی الیکشن کمیٹی بناکر 15 فروری کو انتخاب کرانے کا شیڈول جاری کیا گیا جس پر موجودہ مرکزی صدر غلام رسول مہر کے گروپ نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی. اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ عدالتی احکامات کے پیش نظر ہم نے نئی مرکزی الیکشن کمیٹی بنا دی ہے جس کے چیئرمین غازی خان جمالی ہیں، جو بھی انتخاب لڑے گا اس کو ہمارے شیڈول کے تحت لڑنا ہوگا. بعد میں اس گروپ نے 8 فروری کو انتخاب کرانے اور 9 جنوری تک کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا شیڈول جاری کیا تھا. ادھر محکمہ انڈسٹری کے احکامات پر بنی مرکزی الیکشن کمیٹی نے دوسرے اعلان کردہ انتخابی شیڈول اور کمیٹی کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد صوبے کی تمام تحصیلوں میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے انتخاب لڑنے کے خواہش مند اساتذہ مکمل طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر گروپ اپنے مرکزی گروپ کی انتخابی کمیٹی اور شیڈول کو اپنانے اور دوسرے کو مسترد کرنے کے لئے سرگرم ہوگیا. اب نتیجا یہ نکلا ہے کہ 8 فروری کے انتجاب میں حصہ لینے کے لئے ہر تحصیل سے ایک گروپ آگے آیا جس کے مد مقابل کسی دوسرے گروپ کے نہ آنے کے باعث 9 جنوری کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ پر انہیں بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جس میں لاڑکانہ، قمبرشہدادکوٹ، شکارپور اور دیگر اضلاع کی تحصیلوں کے گروپ شامل ہیں جبکہ محکمہ انڈسٹری کے تحت بنی مرکزی انتخابی کمیٹی کے 15 فروری کو انتخاب کروانے کے شیڈول کو ماننے والے دوسرے گروپ نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور شیڈول کے مطابق 17 جنوری کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آخری دن ہے، قوی امکان ہے کہ اس گروپ کے مد مقابل بھی کوئی دوسرا گروپ نہیں ہوگا اور تمام تحصیلوں میں یہ بھی بلا مقابلہ کامیاب ہو جائیں گے.

ادھر انتخابی سیاست سے عدم دلچسپی رکھنے والے عام اساتذہ کا کہنا ہے کہ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کو مکمل طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہوتا دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہو رہا ہے اس سے ہماری تنظیم مزید کمزور ہوچکی ہے جبکہ ماضی میں یہ تنظیم بہت مضبوط ہوا کرتی تھی جس کی احتجاج کی ایک کال سے حکومت وقت خوف کھا جاتی تھی جبکہ گذشتہ کچھ سالوں میں یہ کمزور ہوتی گئی، اس وقت پرائمری اساتذہ سروس اسٹرکچر سمیت بہت سے سہولیات سے محروم ہیں لیکن محکمہ تعلیم کوئی سنجیدگی اختیار نہیں کر رہا جبکہ ہماری تنظیم کے رہنما خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں.

مزید خبریں

Back to top button