علی پورچٹھہ میں ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر احتجاجی ریلی، شہریوں اور مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)علی پورچٹھہ میں ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مختلف مکاتبِ فکر، مذہبی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائے ریلی نے اسرائیل اور امریکہ کی مبینہ جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق ریلی امام بارگاہ باب العلم سے برآمد ہوئی جس میں شرکاء نے رہبر معظم کی تصاویر، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ریلی اپنے مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی رسولنگر چونگی، مدینہ چوک، ریلوے چوک، اللہ ہو چوک، حیدری چوک اور سرکلر روڈ سے گزرتی ہوئی امام بارگاہ سادات پہنچی جہاں اختتامی اجتماع منعقد ہوا۔اجتماع سے مولانا نصیر حسین، سابق ضلعی امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبید اللہ گوہر، تحریک اویسیہ کے سربراہ غلام رسول اویسی، حافظ سبط حسن نجفی، مرکزی مسلم لیگ رہنما انصر تارڑ، مسلم لیگی رہنما بشارت چیمہ، تصدق محمود، مرکزی انجمن تاجران صدر ذوالفقار علی بھٹو،مولانا ثقلین علی نقوی، مولانا مہدی حسن نقوی، قاری علی منتظری، قاری علی رضا علوی، قمبر صالحی، عابد نقوی و  دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے اسلامی ممالک کے خلاف جارحانہ اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی اداروں کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی جدوجہد ظلم اور طاغوتی قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے اور ان کا نظریہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حق اور باطل کی کشمکش میں بالآخر حق کی فتح اور ظلم کی شکست یقینی ہے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے جبکہ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں امن کے قیام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button