ڈیپلو اور کلوئی پولیس کے پرائیویٹ ٹارچر سیل ختم کیے جائیں،سریندر ولاسائی اور ارباب انور کا مطالبہ

مٹھی(جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو اور کلوئی تھانوں کے ماضی کے کارناموں کو بیان کرتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ دونوں تھانوں نے اپنے ذاتی ٹارچر سیل بنا رکھے ہیں۔کلوئی میں مزدوری کے لیے بلا کر مزدور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ایک کلو مرچیں چوری کرنے کے الزام میں دوسرے مزدور کو گرفتار کر لیا گیا،ڈیپلو پولیس بھگوجی ٹھاکر کو بغیر ایف آئی آر کے گرفتار کر کے تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بلاول ہاؤس کے ترجمان اور ایم پی اے سریندر ولاسائی نے ایس ایس پی تھرپارکر کو ایسی شکایات کیں،لیکن کوئی انصاف نہیں ہوااور ٹارچر سیل کے حوالے سے کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
ایم پی اے سریندر ولاسائی نے رمضان کھوسو کے حالیہ واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی تھرپارکر نے انہیں مایوس کیا ہے،رمضان کے قتل کی شفاف تحقیقات کی کوئی امید نہیں،اس لیے ایس ایس پی نوشہرو فیروز سے تحقیقات کرائی جائیں۔
ارباب گروپ کے رہنما ارباب انور عبدالجبار نے کہا کہ تھرپارکر پولیس سٹیٹ بن چکا ہے،8سال میں سے صرف ایک ایس ایچ او تعینات ہے،پولیس نے اپنے ٹارچر سیل بنا رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف ملنے تک ہم رمضان کھوسو کے ورثاء کے ساتھ ہیں۔



