پنگریو میں پولیس کی جانب سے تاجر کی گرفتاری کیخلاف ورثاءکا احتجاج

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)پنگریو شہر میں پولیس کی جانب سے تاجر کی گرفتاری کے خلاف ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واقع کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنگریو کے رہائشی اورمویشیوں کے تاجر عبدالرشید کھوسو کو مبینہ طور پر سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے ایک ہوٹل سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف منشیات کے مقدمے میں گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ ورثاء کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست تاجر کی جیب سے تقریباً تین لاکھ روپے نکال لیے گئے اور ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کر کے انہیں بے بنیاد مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ واقع کے خلاف ورثاء نے رجب کھوسو، رفیق کھوسو، مرید کھوسو اور دیگر کی قیادت میں پنگریو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے واقع کو پولیس گردی قرار دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ ایک بے گناہ تاجر کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر نہ صرف اس کی عزتِ نفس مجروح کی گئی بلکہ مبینہ طور پر مالی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے ایس ایچ او پنگریو اور ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی، رشید کھوسو کی رہائی اور جھوٹی ایف آئی آر کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر شفاف تحقیقات اور انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔احتجاجی مظاہرین نے آئی جی سندھ۔ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے واقع کا فوری نوٹس لے کر غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے



