پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ایک پھر آمنے سامنے،ایکدوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان متحدہ قومی موومنٹ ایک بار پھر ایکدوسرے کے سامنے آگئے ہیں،دونوں جماعتوں نے ایکدوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی ہے۔
متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نےگورنرسندھ کامران ٹیسوری کو اس لیے ہٹایا کہ وہ ان کے غیر قانونی کاموں میں رکاوٹ تھے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سابق گورنر سندھ کو بلدیاتی انتخابات سے پہلے دوبارہ گورنر بننا چاہیے، کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ رانا ثنا اللہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں کامران ٹیسوری سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
فاروق ستار نے کہا کہ اندرون سندھ میں بھی جلد پیپلز پارٹی کا خاتمہ ہوگا، 140 اے ایم کیو ایم پاکستان کا 30 سال سے مطالبہ ہے، 28 ویں آئینی ترمیم ہماری ہے، آج نہیں تو کل لانی پڑے گی، 140 اے پر تمام تر سیاسی جماعتیں ہماری ہم آواز ہے۔
رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف این او سی کیسے دی گئی؟ قبصے کی جگہ کو قانونی جواز فراہم کیا گیا، 62 ایکٹر ہل پارک کی زمین ہے، اب قبضہ نہیں چلے گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کی ساری زمین کی لیز کے ایم سی کو دینی چاہیے، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات پہلی بار نہیں ہو رہی ،1947 سے 1970 تک کراچی وفاق کے زیر نگرانی تھا، قبضہ مافیا کو اب کراچی والے معاف نہیں کریں گے۔
قبضہ مافیا کو ایم کیو ایم چلینچ کرتی ہے،فاروق ستار
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ قبضہ مافیا کو ایم کیو ایم چلینچ کرتی ہے، جماعت اسلامی اس جگہ کے حوالے سے کیوں خاموش ہے، جہاں جہاں قبضہ مافیا آپریٹ کر رہا ہے ، ہم آواز اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار بڑی تیاری کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں اتریں گے، 18 سال سے کراچی کو قبضہ مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے، پی ای سی ایچ سوسائٹی کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے، شہر کی پہاڑیاں کاٹ کرپلاٹ نکالے جا رہےہیں اور مہنگے داموں فروخت کیےجا رہے ہیں۔فاروق ستار نے کہا کہ کراچی جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے، لوگوں کو پہاڑ بیچ دیا گیا اور کہا گیا کہ پہاڑ بھی خود کاٹیں، میئرکرا چی کی ذمےداری ہےکہ وہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کریں، کے ایم سی کے افسران قبضہ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، میں جب میئر تھا تو ہل پارک کی جگہ پر قبضہ ختم کرایا تھا۔
جو ماضی میں خود ‘ماسٹر پلان’ کے قاتل رہے وہ آج ہمیں قانون کی کتابیں نہ سکھائیں،سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ماضی میں خود ‘ماسٹر پلان’ کے قاتل رہے وہ آج ہمیں قانون کی کتابیں نہ سکھائیں، جب آپ کے پاس طاقت تھی تب شہر کو ملبہ بنایا اور اب بنتا ہوا شہر آپ سے دیکھا نہیں جاتا۔
سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار صاحب! الزامات کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی، اب عوام بیدار ہیں، آپ فرسودہ اسکرپٹ کے ذریعے عوام کو مزید گمراہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو ماضی میں خود ‘ماسٹر پلان’ کے قاتل رہے وہ آج قانون کی کتابیں نہ سکھائیں، جب آپ کے پاس پاور تھی تب شہر کو ملبہ بنایا، اب بنتا ہوا شہر آپ سے دیکھا نہیں جاتا، جو جماعت برسوں بھتہ خوری اور خوف کی علامت رہی، آج کس منہ سے بات کر رہی ہے؟.

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ہل پارک کی ایک انچ جگہ بھی کسی کو نہیں دی۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عید قربان کے دوران لینڈ فل سائٹس پر81ہزار525ٹن آلائشیں لائی گئیں،صفائی مہم کے دوران88ہزار436ٹن اینیمل ویسٹ اور کچرا ٹھکانے لگایا گیا۔ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک کی ایک انچ جگہ بھی کسی کو نہیں دی، ہل پارک کے ایم سی کی پراپرٹی تھی، ہے اور رہے گی۔
کھالوں اور لاشوں کی سیاست نے شہر کراچی کو نقصان پہنچایا،مئیرکراچی
میئر کراچی نے کہا کہ کھالوں اور لاشوں کی سیاست نے شہر کراچی کو نقصان پہنچایا، شہر کو تقسیم اور نقصان پہنچانے والی سیاست سے اجتناب کرنا ہوگا، عوامی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔اس کے علاوہ صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بے بنیاد الزامات اور پرانے سیاسی بیانیے کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔



