غریب کا سانس بند،اشرافیہ کی عیاشیاں

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی معیشت اس وقت تاریخ کے بدترین اور ہولناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں حکومت نے عوام پر پیٹرولیم بم گراتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزیل میں 184 روپے کا ہوش ربا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول 458 روپے اور ڈیزیل 520 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کو بھی 160 روپے تک بڑھانے پر آمادگی ظاہر کر دی گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑے گا اور خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں بجلی کا ایک یونٹ 100 روپے تک جا پہنچے گا۔ ایک طرف غریب عوام روٹی کے نوالے کو ترس رہے ہیں اور ان کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا ناممکن ہو چکا ہے، تو دوسری جانب حکمران طبقے اور اشرافیہ کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ حالیہ معاشی بحران کے باوجود اربوں روپے مالیت کے دو نئے گلف اسٹریم طیارے خریدے گئے ہیں جن کے سالانہ اخراجات ہی 3 ارب روپے سے زائد ہیں، جبکہ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں 500 فیصد تک اضافہ کر کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بیوروکریسی کے لیے 150 نئی لگژری اور بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی منظوری نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی ‘آمدنی اٹھنی اور خرچہ روپیہ’ ہونے کے باوجود اشرافیہ اپنی مراعات میں کمی کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور ڈائریکٹ ٹیکسز کے بجائے عوام کا خون نچوڑنے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کا معاشی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتا ہے۔ اس ہولناک معاشی صورتحال اور پسِ پردہ حقائق کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ مکمل دیکھیں۔



