فلپائن میں 350 افراد کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی، 15 مسافر ہلاک،28 لاپتہ

منیلا (ویب ڈیسک) فلپائن کے جنوبی صوبے باسیلان کے قریب ایک مسافر بردار کشتی کے الٹنے سے کم از کم 15 افراد ہلاک اور 28 لاپتہ ہو گئے، جبکہ 316 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ کشتی میں مجموعی طور پر 359 افراد سوار تھے، جن میں 332 مسافر اور 27 عملے کے ارکان شامل تھے۔
یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب جہاز ایم وی ٹرشا کرسٹن 3، بندرگاہی شہر زامبوانگا سے روانہ ہو کر جنوبی سولو کے جزیرے جولو کی جانب جا رہا تھا۔ کشتی نے رات 1:50 بجے مدد کے لیے پیغام بھیجا، جو روانگی کے تقریباً چار گھنٹے بعد تھا، اور پھر باسیلان صوبے کے جزیرہ نما گاؤں بالک-بالک سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوب گئی۔
کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا کے مطابق، اب تک 316 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا، اور جن افراد کو طبی امداد کی ضرورت تھی، انہیں دارالحکومت اسابیلا کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کوسٹ گارڈ، نیوی اور ایئر فورس کے امدادی وسائل ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔
باسیلان کے گورنر مجیو ہاتامان نے فیس بک پر ہسپتال اور بندرگاہ کے مناظر کی ویڈیوز شیئر کیں، جن میں زندہ بچ جانے والوں کو کشتیوں سے اتارنا اور انہیں تھرمل کمبل یا اسٹریچر پر منتقل کرنا دیکھا جا سکتا ہے۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق، فیری کے ڈوبنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ روانگی سے قبل جہاز کو کلیئر کیا گیا تھا اور زیادہ بوجھ ہونے کے آثار نہیں ملے تھے۔
فلپائن میں جزیرہ نما ملک ہونے کی وجہ سے سمندری حادثات عام ہیں، جن کی وجوہات میں شدید موسمی حالات، ناقص دیکھ بھال، مسافروں کی زیادہ تعداد اور حفاظتی قوانین پر کمزور عمل درآمد شامل ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر 1987 میں وسطی فلپائن میں فیری ڈونا پاز کے حادثے میں 4,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جو دنیا کی تاریخ کا بدترین پُرامن سمندری حادثہ سمجھا جاتا ہے۔



