پیکا سمیت آزادیٔ صحافت کیخلاف قوانین نامنظور، نظرثانی نہ ہوئی تو ملک گیر تحریک چلائیں گے: پی ایف یو جے

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( PFUJ ) کے صدر افضل بٹ، سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے اعلان کیا ھے کہ پی ایف یو جے ملک بھر میں منعقد کرائے جانے والے جرنلسٹس کنونشن کی سفارشات کی روشنی میں پیکا سمیت اظہارِ رائے کی آزادی اور آزادی صحافت کیخلاف آئین پاکستان سے متصادم شقوں کی نشاندھی پر مبنی ڈرافٹ حکومت کو دے گی اور سیاسی جماعتوں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں پیش کرائے گی، اگر میڈیا اور آزادی رائے کے برخلاف شقوں پر نظرثانی نہیں کی گئی تو ملک بھر میں بھرپور تحریک چلائی جائے گی، یہاں ہفتے کے روز سکھر پریس کلب میں پی ایف یو جے کیجانب سے سکھر یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام میڈیا لاز، ریگولیشنز اور صحافتی اخلاقیات کے موضوع پر ایک تاریخی ریجنل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صحافی رھنماؤں نے خبر دار کیا کہ پیکا قانون سمیت میڈیا پر قدغن لگانے کے کسی قانون کو من و عن تسلیم نہیں کیا جائے گا، اسلام آباد میں پی ایف یو جے کا مرکزی کنونشن منعقد کیا جائے گا، اور سفارشات پیش کی جائیں گی، اگر حکمرانوں نے ھوش کے ناخن نہ لیئے تو دمادم مست قلندر ھوگا، کنونشن میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان، سابق سیکریٹری جنرل ناصر زیدی، سکھر پریس کلب یونین آف جرنلسٹ کے قانونی مشیر بیرسٹر خان غفار خان، میئر سکھر و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے (وڈیو لنک پر) اور صدر سکھر یونین آف جرنلسٹس جاوید جتوئی ، صدر سکھر پریس کلب کے خالد بھانبھن، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر خورشید میرانی، ڈسٹرکٹ بار کے سابق سیکریٹری سندر خان چاچڑ ، کمیونٹی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے جان اوڈھانو، ارشد رجیال،سنی تحریک کے صدر محبوب سہتو ، چینل فائیو کے سی ای او، کیبل ایسوسی کے خالد آرائیں ، پیپلز پارٹی کے رھنماء مرتضیٰ گھانگرو،آئی سی ایم اے کی پرنسپل میڈم سارہ لاشاری ، تاجر رھنماء جاوید میمن،نے خطاب کیا جبکہ سمیت ملک بھر سے سینئر صحافی رہنماؤں، سکھر، خیرپور ، گھوٹکی ، نوشہروفیروز، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، شہید بینظیر آباد سمیت سندھ کے مختلف اضلاع سے یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران و ورکنگ جرنلسٹس، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نمائندگان، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور وکلا برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کنونشن کا مقصد میڈیا سے متعلقہ مروجہ قوانین ، قواعد و ضوابط کے تناظر میں آزادی صحافت صحافتی آزادی کو درپیش ممکنہ خطرات و چیلنجز ، فیک نیوز کے رجحانات کے سدباب، صحافیوں کے پیشہ وارانہ امور میں حائل مسائل و قدغن ٥کا خاتمہ، زرائع ابلاغ کے مثبت استعمال، صحافتی اخلاقیات کی حدود و قیود کیساتھ آزادی صحافت ، پیکا ایکٹ کے ممکنہ غلط استعمال اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق مثبت اور مؤثر ترامیم کیلئے مشاورت کی روشنی میں ٹھوس موثر تجاویز و سفارشات کی تیاری تھا تاکہ قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور آزاد، ذمہ دار صحافت کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے، کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نےکہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت ملک بھر میں درج کیئے جانیوالے مقدمات کو ختم کیا جائے، ملک میں ایسے قوانین متعارف کرائے گئے ھیں خبر کو قابل دست اندازی پولیس بنا دیا گیا ھے، کسی مہذب ملک و معاشرے میں اس کا تصور نہیں ھے، پی ایف یو جے پاکستان بھر میں کنونشن کر رھی ھے تاکہ سفارشات مرتب کی جا سکیں اور صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران صحافتی اخلاقیات کی بابت آگاہ کیا جائے، کنونشنوں سے موصول ھونیوالی سفارشات کو مرتب کر کے سیاسی جماعتوں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں پیش کرایا جائے گا، عدم منظوری پر ملک گیر تحریک چلائی جائے گی. پاکستان کا آئین اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ھے، پابندیاں اس لیئے لگائی جاتی ھیں کہ عوام کو گونگا بہرہ رکھا جائے ،پی ایف یو جے نے ھمیشہ جدوجہد کی ھے، پی ایف یو جے ڈرافٹ تیار کر کے سیاسی جماعتوں تک پہنچانے گی جس میں میڈیا قوانین میں پریس فریڈم آئین پاکستان سے متصادم شقوں کی نشاندھی کریں گے، ملک بھر میں اراکین پارلیمنٹ کو ڈرافٹ پہنچایا جائے گا تاکہ انہیں آئین پاکستان سے متصادم شقوں سے آگاھی دی جائے، اور تعاون طلب کیا جائے گا، پی ایف یو جے کی تاریخ آزادی صحافت کیلئے جدوجہد سے بھری پڑی ھے، ھماری کوشش نتیجہ خیز ثابت ھوگی، پی ایف یو جے کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے کنونشن سے خطاب کرتے کہا کہ نت نئے قوانین بنائے جارھے ھیں تاکہ صحافت کی آزادی کو سلب کیا جاسکے ، انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کر رھا ھے میڈیا کو آزاد رکھا جائے تاکہ فیک نیوز کا سدباب ھو سکے، ھم قانون کی تابعداری کرنے والے لوگ ھیں لیکن قوانین کو میڈیا اور مفاد عامہ کیلئے بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ میڈیا کو زیر کرنے کی کوششیں بند کی جائیں، سابق حکومت بھی اسی طرح کی کوششیں کرتی رھی آج وہ جیل کاٹ رھے ھیں، موجودہ حکمران بھی میڈیا پر قدغن کے قوانین کی جدوجہد میں ساتھ رھے اور بر سر اقتدار آکر میڈیا کی آزادی کے وعدے کرتے تھے لیکن وعدوں کو فراموش کر دیا ھے ، مطالبہ کیا کہ ھمارے سینئیر صحافیوں کیخلاف پیکا کے تحت درج مقدمات فی الفور ختم کیئے جائیں، ملک بھر کے عوام میڈیا کی آزادی کے علمبردار ھیں، وفاقی حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ اور قوانین پر سفارشات کا ڈرافٹ پیش کریں گے، آج کے ریجنل کنونشن میں صحافی عہد کرتے ھیں کہ قلم کے مزدوروں کیساتھ ھیں ،پی ایف یو جے کبھی فیک نیوز پھیلانے والے ایجنڈا کے تحت کام کرنیوالوں کی کبھی حمایت نہیں کرتی، لالا اسد پٹھان نے جان محمد مہر نصراللہ گڈانی سمیت دیگر شہید کیئے جانیوالے صحافیوں کو شہید کیا جانے کا تذکرہ کرتے کہا کہ کسی کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا گیا ھے، صحافیوں پر دہشتگردی کے جھوٹے مقدمات بنائے جارھے ھیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کے صحافی پی ایف یو جے کا ھراول دستہ ھے ، قربانیاں دی ھیں. حکومت کو ڈاکومنٹ دیں گے اگر حکمرانوں نے ھوش کے ناخن نہ لیئے تو دمادم مست قلندر ھوگا، ملک بھر کے صحافی متحد ھیں. سکھر پریس کلب یونین آف جرنلسٹ کے قانونی مشیر بیرسٹر خان غفار خان نے خطاب کرتے ھوئے پیکا قانون میں موجود خامیوں اور سقم اور پیکا کے حوالے سے جرنلسٹس برادری میں پائے جانیوالے تحفظات سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کی کوئی متعین تعریف نہیں ھے، فیک نیوز کے نام انتقامی کاروائی کے خدشات بڑھ گئے ھیں، ازالہ حیثیت عرفی ھتک عزت کے موجود قانون کی موجودگی میں اس حوالے سے کوئی علیحدہ سے قانون کی ضرورت نہیں ھے، مذکورہ قانون نے اظہار رائے کی آزادی پر تلوار لٹکا دی ھے اور آزاد صحافت پر بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ھے، انہوں نے ماورائے قانون اقدامات کو روکا جانے پر زور دیا، پی ایف یو جے کے سابق سیکریٹری جنرل ،سینئیر صحافی رھنماء ناصرزیدی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اسٹیک ھولڈر ھے ،میڈیا قوانین بنائے جانے سے قبل صحافی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت نہ کیا جانا قابل افسوس ھے، انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے جرنلسٹس کی ٹریننگ کررھی ھے تاکہ صحافتی زمہ داریاں پیرامیٹر میں رہ کر سرانجام دیں، انکے لیئے مشکلات پیدا نہ ھوں، ڈویژنل سطح کے بعد اسلام آباد میں قومی کنونشن منعقد کیا جائے گا. جس میں سفارشات تحریری طور پر دیں گے اور دو ٹوک ڈائیلاگ کریں گے ، اور اظہار رائے کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، جدوجہد جاری رھے گی، تاجر رھنماء جاوید میمن نے کہا کہ تاجر برادری میڈیا برادری کیساتھ کھڑی ھے ،جدوجہد میں ھمیشہ ساتھ رھیں گے
سنی تحریک کے محبوب سہتو نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کیلئے نت نئے قانون بنائے جارھے ھیں پیپلز پارٹی کے رھنماء مرتضیٰ گھنگرو نے اپنے قائدین سے اپیل کی کہ وہ میڈیا قوانین پر نظرثانی کرائے، قبل ازیں جب مرکزی رھنماؤں کے سکھر پریس کلب کنونشن میں پہنچنے پر نعروں کی گونج میں پرتپاک استقبال کیا گیا اور گل پاشی کی گئی.



