پی ایف یو جے نے آزادی صحافت پر قدغن کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے مرکزی سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے کہا ہے کہ اگر حکمران صحافیوں کے حقوق سلب کرنے یا آزادیٔ صحافت پر قدغن لگانے کی کوشش کریں گے تو پی ایف یو جے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ صحافی سروں پر کفن باندھ کر اسلام آباد اور پارلیمنٹ ہاؤس کے لیے نکلیں گے۔
لالا اسد پٹھان نے رک فارم پریس کلب، ضلع گھوٹکی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے صحافی طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتے ہیں اور ہر صورت عوام کی عدالت میں جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر وڈیرے، سردار، پیر میر اور بااثر شخص قانون کے دائرے میں جواب دہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا عوام کی آواز ہیں اور بنیادی مقصد سچ کو عوام تک پہنچانا ہے۔ بدقسمتی سے حکمران اقتدار میں آتے ہی میڈیا کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ایف یو جے کسی بھی ایسے قانون کو نہ مانے گی اور نہ تسلیم کرے گی جو صحافیوں کو خاموش کرنے یا حق گوئی پر پابندی لگانے کے لیے بنایا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ آزادیٔ صحافت پر قدغن کا تصور بھی کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ صحافت کا بنیادی فریضہ عوام کو یہ بتانا ہے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، بنیادی سہولیات کیوں میسر نہیں اور کون بااثر طبقہ قومی وسائل کی لوٹ مار میں ملوث ہے۔
لالا اسد پٹھان نے بتایا کہ 10 جنوری کو سکھر پریس کلب میں "میڈیا لاز، ریگولیشنز اینڈ ایتھکس” کے عنوان سے سندھ ریجنل جرنلسٹس کنونشن میں ہزاروں صحافی شرکت کریں گے، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل اور اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے ان عظیم صحافتی اساتذہ کی جدوجہد کی وارث ہے، جنہوں نے آمریتوں کے خلاف تحریکیں چلائیں، جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے اور نوکریاں قربان کیں مگر قلم کی حرمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
بعد ازاں لالا اسد پٹھان نے رک فارم پریس کلب کا ربن کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا اور صحافیوں کے اتحاد، یکجہتی اور منظم رہنے کے لیے خصوصی دعا کی۔ تقریب میں سینئر صحافیوں، علاقائی معززین اور پی ایف یو جے کے عہدیداران نے شرکت کی۔



