‘پیٹرول بم’ کے بعد عوام کیلئے”بجلی” کا جھٹکا بھی تیار

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا ‘ایٹمی بم’ گرا دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں اس ظالمانہ اضافے کا جواز ایران جنگ اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو قرار دیا ہے، لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی اصل قیمت (ایکس ریفائنری) صرف 247 روپے ہے، جبکہ باقی تمام رقم ٹیکسز اور لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے نکالی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ٹیکس وصولی کے اہداف پورے کرنے میں ایف بی آر کی ناکامی کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ حکمرانوں کی 111 ارب کے جہازوں اور 40، 40 گاڑیوں کے پروٹوکول جیسی عیاشیاں جوں کی توں برقرار ہیں۔

​اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور خدشہ ہے کہ بجلی کا یونٹ بھی جلد 100 روپے سے تجاوز کر جائے گا، جس سے غریب کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو کر رہ گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماضی میں مہنگائی کے خلاف مارچ کرنے والے بلاول بھٹو اور اجلاسوں سے اٹھ کر جانے والے نواز شریف اب اپنے ہی دورِ حکومت کے ان ‘نامعقول’ فیصلوں پر خاموش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو ایف بی آر کو ختم کر کے ٹیکس وصولی صوبوں کے حوالے کرے اور مارکیٹوں کو جلد بند کرنے جیسے کڑے فیصلے کرے، ورنہ صرف پیٹرول مہنگا کرنے سے ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اس معاشی قتلِ عام، ٹیکسوں کے جال اور پسِ پردہ حکومتی نااہلی کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے امداد سومرو کا یہ خصوصی وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button