حیدرآباد، سول سوسائٹی، وکلاء اور صحافیوں کاپیکا ایکٹ کیخلاف احتجاج، ایمان مزاری اور ہادی پر مقدمات واپس لینے کا مطالبہ

حيدرآباد(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)ایچ آر سی پی کے زیراہتمام پیکا ایکٹ کے تحت سزاؤں کے خلاف احتجاج، سول سوسائٹی وکلاء اور صحافیوں کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے اظہارِ یکجہتی

نامور وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت دی گئی سزا کے خلاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام حیدرآباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں، وکلاء برادری، خواتین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ریجنل کوآرڈینیٹر غفرانہ آرائیں، مرکزی رہنما امداد چانڈیو، پشپا کمباری، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان، عاصمہ جہانگیر ٹیم کے رہنماؤں حميد سومرو، ایڈوکیٹ عاجز مير, ایڈوکیٹ محب آزاد ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی نائب صدر خالد کھوکھر، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اقبال ملاح، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر تنویر احمد آرائیں سمیت سینئر صحافیوں اشوک رحمانی، رمضان شورو، فیصل ڈھری، انور اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجی شرکاء نے کہا کہ احتجاج کا مقصد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ پیکا ایکٹ جیسے سیاہ قانون کے تحت صحافیوں، وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف قائم مقدمات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ آزادی اظہار، آزادی صحافت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ جبر کے ماحول میں سیاہ قوانین کے ذریعے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے جو آئینِ پاکستان اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیکا ایکٹ میں انسانی حقوق کے منافی شقوں کو ختم کیا جائے اور ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سمیت تمام صحافیوں اور کارکنان کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک شہری آزادیوں اور آزادی اظہار کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اس موقع پر شرکاء نے سیاہ قانون پیکا ایکٹ ، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کارکنان کے خلاف کارروائی ، آزادی اظہار پر قدغن نامنظور نامنظور ، ایمان مزاری اور ہادی بخش چھٹہ کو رہا کرو ، صحافت اور شہری آزادیوں پر حملے بند کیے جائیں کی نعرے بازی بھی کی گئی

مزید خبریں

Back to top button