عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق کیا جائے رہاہے، مولانا فضل الرحمان کی حافظ نعیم کے ہمراہ گفتگو

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم چلائی جائے گی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ملاقات میں چند امور پر ہم نے مشاورت کی ہے، 19 فروری کو بورڈ آف پیس کا اجلاس اصل میں اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہے، یہ عالمی ادارے کی افادیت کو چیلنج کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کہہ چکی ہے، ایجنڈے میں تبدیلی لائی گئی تھی، اس کے باوجود اس فورم پر جانا ٹھیک نہیں، نیتن یاہو قاتل اور سفاک ہے، لاکھوں لوگوں کو قتل کیا گیا اور فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی کھنڈرات میں دبی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں ہم اس سفاک کے ساتھ امن کی بات کرنے جا رہے ہیں، عوام سے کہتے ہیں ملی جذبے کا احترام کریں، ایسے اقدامات کیے جائیں کہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے آئندہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، عید الفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم چلائی جائے گی، جمعیت علمائے اسلام نے 12 مارچ کو مردان میں جلسے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مرتبہ فلسطینیوں کا قتل عام کرچکا ہے، کیا ہم دوبارہ وہاں جاکر وہی کریں گے، جب آپ حماس کو غیرمسلح کریں گے تو آپ مسلمانوں سے لڑیں گے، ہم حکومت کو کوئی مہلت دینے کو تیار نہیں کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خون سے مذاق نہ کیا جائے گا، اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم پھر آزادی کی تاریخ دہرانے کے لیے باہر نکلیں گے، ان اطوار کے ساتھ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پاکستان ناکام خارجہ پالیسی چلا رہا ہے جہاں تمام ہمسائیہ ممالک اور دوست ناراض ہیں، یہ پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی ہے کہ بھارت سے بھی دشمنی اور افغانستان سے بھی ناراضی، افغان حکومت سے کہنا چاہتے ہیں پاکستان سے بہتر تعلقات کے لیے بات چیت کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کر چکا جس سے فلسطینی بھولے نہیں ہیں، کیا آپ ایک بار بھر وہی عمل دہرائیں گے، فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں چین اور روس کے خلاف پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے، ہمیں مسائل کا مستقل حل نکالنا ہوگا کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہ سکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی، مسلح کارروائیاں پاکستان میں چار دہائیوں کا مسئلہ ہے، ہم نے اس طرح کے آپریشنز کی مخالفت کی تھی لیکن ان آپریشنز کے باوجود یہ عوام کو امن کیوں نہیں دے سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم تمام معاملات میں سعودی عرب اور ترکیے کے پیچھے چلتے ہیں، پاکستان سعودی عرب اور ترکیے کو قائل کرسکتا ہے، امن بورڈ کے تحت بننے والی اس فورس کی قیادت اور کمانڈ امریکا کے ہاتھ میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی ان کی مخالفت مول نہیں سکتے تو اس وقت کیا مول لیں گے، ہم نے عراق فوج بھیجنے سے انکار کیا تھا تو ہم آج بھی کرسکتے ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پاکستان میں مسلح گروپس کی کارروائیوں پر ہمیں افغانستان اور ایران سے بات کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورت حال پر گفتگو ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے اجلاس پر ہمیں تشویش ہے، پاکستان نے امن بورڈ کی رکنیت لے لی ہے جس میں اسرائیل بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھتے ہیں کیا آپ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے بارے میں ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان کو اس میں شامل ہونے کا کہا جائے گا، یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی فورس اس فورس کا حصہ بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورت حال پر بات کی ہے، پاکستان کو کسی ایسی جنگ میں نہیں جانا چاہیے جس سے پاکستان کو فائدہ نہ ہو، پاکستان نے بورڈ کا ممبر بننا قبول کیا اور شرکت کی دعوت بھی قبول کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی، کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ بنے۔



