پاکستانی ” ابابیل ” کا خوف: اسرائیل نے پاکستان کو بدماش ریاست قرار دے دیا

واشنگٹن/تل ابیب/اسلام آباد: پاکستان کے میزائل پروگرام ‘ابابیل’ نے عالمی دفاعی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب یہ صرف دہلی ہی نہیں بلکہ واشنگٹن کے لیے بھی ایک بھیانک خواب بن کر ابھرا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس چیف تلسی گباڈ نے کانگریس کے سامنے سنسنی خیز اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ یہ امریکی سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکی ہے، جس سے واشنگٹن کے ایوانوں میں "ٹانگیں کانپنے” لگی ہیں۔ اس ابابیل میزائل سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں کئی ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا توڑ فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ دوسری جانب، بھارت میں متعین اسرائیلی سفیر رون ازار نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے پاکستان کو "بدمعاش ریاست” قرار دے دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دنیا اب پاکستان کا ایٹمی بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ بیانات محض لفظی جنگ نہیں بلکہ ایران کے بعد اب پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے گرد "تزویراتی محاصرہ” تنگ کرنے کی ایک منظم عالمی سازش کا حصہ معلوم ہوتے ہیں تاکہ معاشی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے پاکستان کو اپنے دفاعی پروگرام پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کا یہ گٹھ جوڑ پاکستان کی ایٹمی چھتری سے خوفزدہ ہے کیونکہ اگر یہ ٹیکنالوجی سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کے دفاع کے لیے دستیاب ہو گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی فوجی بالادستی ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔
مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ اس لنک پر ملاحظہ کریں:




