پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی اصل وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف کمزور سگنل یا نیٹ ورک کی خرابی نہیں بلکہ ایک خودکار نظام Network Management System (NMS) کے ذریعے رفتار کنٹرول کیے جانے کا نتیجہ ہے۔

ذرائع کے مطابق موبائل کمپنیوں جن میں Jazz، Zong، Ufone اور Telenor شامل ہیں نے اپنے نیٹ ورکس میں ایسا سسٹم نصب کر رکھا ہے جو صارف کے پیکج کے مطابق خودکار طور پر انٹرنیٹ کی رفتار محدود کرتا ہے۔ کم قیمت پیکجز والے صارفین کو عموماً 1 سے 3 Mbps جبکہ مہنگے پیکجز میں 10 سے 20 Mbps تک کی رفتار فراہم کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل کسی بدنیتی پر مبنی نہیں بلکہ نیٹ ورک کے توازن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

ایک عام 4G ٹاور کی صلاحیت تقریباً 200 Mbps ہوتی ہے، اور اگر سو صارف بیک وقت انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہوں تو ہر ایک کو اوسطاً صرف 2 Mbps مل سکتا ہے۔

انجینئرنگ ماہرین کے مطابق اگر کمپنیاں سب صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنا چاہیں، تو انہیں زیادہ ٹاورز لگانے اور بین الاقوامی بینڈوڈتھ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا — جس پر بھاری لاگت آتی ہے۔

پاکستان میں ڈالر کے مہنگا ہونے سے یہ لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی وجہ سے کمپنیوں نے Fair Usage Policy (FUP) نافذ کر رکھی ہے، تاکہ کچھ صارفین پورا نیٹ ورک استعمال نہ کر لیں اور باقی صارفین کو بھی مستحکم رفتار میسر رہے۔

یہ نظام Dynamic Load Balancing کے تحت ہر لمحہ صارفین کی تعداد اور ڈیٹا استعمال کو مانیٹر کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق سپیڈ ایڈجسٹ کر دیتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہی پالیسی دیکھی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں Verizon اور T-Mobile جیسے نیٹ ورکس 50GB ڈیٹا کے بعد رفتار کم کر دیتے ہیں،

جبکہ برطانیہ اور خلیجی ممالک میں بھی مخصوص ڈیٹا استعمال کے بعد اسپیڈ خودکار طور پر کم ہو جاتی ہے — تاہم وہاں صارفین کو اس بارے میں پیشگی آگاہ کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اضافی ٹاورز کی تنصیب کے بغیر رفتار میں نمایاں بہتری ممکن نہیں۔

کمپنیاں اگرچہ تمام صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ دے سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں نیٹ ورک اپگریڈ، بینڈوڈتھ خریداری اور ڈالر کے اخراجات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button